.

ایران میں کم عمری میں ‌جرم کرنے والے نوجوان کو پھانسی، اقوام متحدہ کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں 31 دسمبر 2020ء بروز جمعرات ایک 28 سالہ نوجوان کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ملزم محمد حسن رضائی کو 12 سال قبل جب گرفتار کیا گیا تو اس کی عمر صرف 16 سال تھی۔ اقوام متحدہ نے کم عمری میں جرم کرنے والے مبینہ ملزم کو سزائے موت دینے کی شدید مذمت کی ہے۔

قبل ازیں بدھ 30 دسمبر کو ایران میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے بتایا تھا کہ محمد حسن رضائی کو تہران کی لاکان جیل میں قید تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے۔ وہاں پر اس کے اہل خانہ کے ساتھ اس کی آخری ملاقات کرائی گئی۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے بتایا کہ حسن رضائی کی سزائے موت پرعمل درآمد سے قبل اسے دوسرے قیدیوں‌ سے الگ تھلگ کر دیا گیا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ ایک پراسرار پھانسی ہے جس پر اکتیس دسمبر جمعرات کی صبح کو عمل درآمد کیا گیا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ میں محمد حسن رضائی کی پھانسی سے متعلق کوئی خبر نہیں آئی اور نہ ہی عدالتی حکام کی طرف سے اس حوالے سے کوئی رد عمل آیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر سے جاری بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ سال 2020ء کے دوران ایران میں سزائے موت کے تحت تختہ دار پر لٹکایا جانے والا یہ چوتھا شہری ہے۔ بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی رو سے 18 سال سے کم عمر افراد کے دوران جرم کرنے والے افراد کو سزائے موت دینا جرم ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی مندوب میشل باشلیہ نے کہا کہ ہم محمد حسن رضائی کو سزائے موت دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اس سزا پر ہمیں سخت مایوسی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے ایرانی حکومت کے ساتھ رابطے کے باوجود ملزم کو پھانسی دے دی گئی جوکہ ناقابل قبول ہے۔