.

شام: روسی فوج کے اڈے کے نزدیک کار بم دھماکا، متعدد افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مشرقی علاقے میں واقع روس کے ایک فوجی اڈے کے نزدیک جمعہ کو کار بم دھماکا ہوا ہے۔ برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ صدر بشارالاسد کے اتحادی ملک روس کے فوجی اڈے کے نزدیک اس طرح کا یہ پہلا حملہ ہے۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ صوبہ الرقہ میں واقع تل سلمان کے علاقے میں اس بم حملے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں لیکن اس نے ان زخمیوں کی حقیقی تعداد نہیں بتائی ہے۔روسی فوج کی جانب سے اس واقعہ کے بارے میں فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

شام میں القاعدہ سے وابستہ گروپ حراس الدین نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیاہے۔رصدگاہ کا کہنا ہے کہ دو افراد نے بارود سے لدے ایک پک اپ ٹرک کو فوجی اڈے کے نزدیک کھڑا کیا تھا اور اس کے بعد وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

حراس الدین کے جنگجو شام کے شمال مغربی علاقے ادلب میں موجود ہیں لیکن انھوں نے اس صوبہ سے باہر ماضی میں کم ہی اس طرح کی جنگی کارروائیاں کی ہیں۔

روس ادلب سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں پر اپنے حمیمیم ائیربیس پر ڈرون حملوں کے الزامات عاید کرتا رہتا ہے لیکن انھوں نے اس فوجی اڈے پر کبھی کار بم حملہ کیا ہے اور نہ اس سے پہلے کسی نے الرقہ میں واقع روسی اڈے پر کاربم حملہ کیا ہے۔واضح رہے کہ روسی فوجی شام کے شمالی علاقے میں ترکی کےساتھ طے شدہ جنگی سمجھوتوں کے تحت تعینات ہیں اور وہ جنگ بندی کی نگرانی کررہے ہیں۔