.

مملکت میں تارکین وطن پر عائد ادائیگیاں سالانہ کے بجائے سہ ماہی بنیادوں پر کرنے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی وزارت میں لیبر پالیسیز کے ڈپٹی منسٹر انجینئر ہانی بن عبدالمحسن المعجل کے مطابق تارک وطن کارکنان پر سرکاری ٹیکسوں اور محصولات کا معاملہ زیر غور ہے۔

مکہ مکرمہ میں بدھ کے روز ایوان تجارت و صنعت کی جانب سے منعقد ایک ورک شاپ میں انہوں نے بتایا کہ "غیر ملکی کارکنان پر سرکاری ادائیگیوں کے نظام کا جائزہ لیا جائے گا اور ممکنہ طور پر یہ ادائیگیاں سالانہ بنیادوں کے بجائے سہ ماہی بنیادوں پر کر دی جائیں گی۔ اس طرح نجی سیکٹر کی کمپنیوں کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق المعجل نے واضح کیا کہ کارکن کی طرف سے اقامہ تجدید فیس اور مالی ٹیکس کی ادائیگی اس وقت موجودہ آجر کی جانب سے کی جاتی ہے۔

ڈپٹی منسٹر نے مزید بتایا کہ مملکت میں لیبر اصلاحات کے تحت کفیل کا نظام باقی نہیں رہے گا بلکہ اسے شرائط کے ساتھ آجر اور کارکن کے درمیان ایک سمجھوتے کے تعلق سے تبدیل کر دیا جائے گا۔ اس نظام کا اطلاق 14 مارچ 2021ء سے ہو گا۔

انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی وزارت نے 4 نومبر کو لیبر اصلاحات متعارف کرائی تھیں۔

المعجل نے بتایا کہ اگر کوئی کارکن دو سال کے مقررہ معاہدے سے قبل آجر تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسے معاہدے میں شامل "جرمانے کی شق" کے مطابق آجر کو زر تلافی کی ادائیگی کرنا ہو گی۔