.

اسرائیل عراق میں حملہ کر کے امریکا اور ایران کو آپس میں‌ لڑانا چاہتا ہے: جواد ظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اسرائیل پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ایک سازش کے تحت امریکا اور ایران کو آپس میں لڑانا چاہتا ہے۔

ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل نے عراق میں امریکی افواج پر حملوں کی منصوبہ بندی کرکے جنگ کو بھڑکانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔

جواد ظریف نے مزید کہا کہ مبینہ اسرائیلی منصوبے سے صدر ٹرمپ کو جنگ پر اکسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس سے قبل ایران نے الزام عاید کیا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ عراق میں ایران کے خلاف جنگ کے بہانے اور جواز تلاش کر رہا ہے۔ ایران کا کہنا تھا کہ ہمیں عراق سے معلوم ہوا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔

اسی تناظر میں ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر یحیی رحیم صفوی نے کہا ہے کہ ان کا ملک امید کرتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار کے آخری ایام میں امریکا اور ایران کے درمیان تنائو رہے گا تاہم کسی قسم کے تصادم کا امکان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ قاسم سلیمانی کی برسی کے موقع پر امریکی فوجی کاروائیوں خوف زدہ اور تشویش میں مبتلا ہیں۔ امریکیوں کو اندازہ ہے کہ ایرانی افواج امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے کو چند گھنٹوں کے اندر اندر غرق کرسکتا ہے۔