.

قاسم سلیمانی کی پہلی برسی، تہران کے ہاتھ بندھے ہوئے اور اس کی ملیشیاؤں میں انارکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نے اپنے اہم ترین عسکری کمانڈر اور بیرون ملک 'عسکری پالیسی' کے کارساز جنرل قاسم سلیمانی کے مارے جانے کے ایک برس بعد بیرونی محاذ پر خود کو بے بس پایا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے پابندیوں اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی نے معاملے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ قاسم سلیمانی گذشتہ برس 3 جنوری کو بغداد کے ہوائی اڈے کے باہر امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

کئی مبصرین کے نزدیک ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی موت کے نتیجے میں ایران جس زخم سے دوچار ہوا ہے وہ اب نہیں بھر سکے گا۔

ایران انٹریشنل نیٹ ورک کے مطابق سلیمانی کی عدم موجودگی کا ایرانی نظام، القدس فورس اور شام اور عراق میں ایران کی ہمنوا جماعتوں پر سنگین اثر پڑا ہے۔

سلیمانی مشرق وسطی میں تہران نواز ملیشیاؤں کا کمانڈر انچیف تھا۔ وہ عراق میں مختلف مسلح گروپوں کی براہ راست قیادت کرتا تھا۔ مزید برآں وہ لبنان میں حزب اللہ، غزہ کی پٹی میں حماس اور اسلامی جہاد اور شام میں فاطمیون (افغان ملیشیا) اور زینبیون (پاکستانی ملیشیا) اور دیگر ملیشیاؤں کے ساتھ رابطہ کاری رکھتا تھا۔ سلیمانی ان میں بعض ملیشیاؤں مثلا الحشد الشعبی، فاطمیون اور زینبیون کا بانی بھی تھا۔

البتہ سلیمانی کے مارے جانے کے بعد القدس فورس کا نیا کمانڈر اسماعیل قاآنی وہ کردار ادا نہ کر سکا جو سلیمانی کا خاصہ تھا۔ لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے سربراہ نے بھی چند روز قبل ایک تازہ ترین انٹرویو میں کہا تھا کہ قاآنی ابھی تک نیا ہے اور فی الوقت اس پر کوئی حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ واضح رہے کہ قاآنی کو منصب سنبھالے ہوئے ایک برس گزر چکا ہے!

ایک عراقی ذمے دار نے نام ظاہر کیے بغیر امریکی جریدے نیوز ویک کو دیے گئے بیان میں کہا کہ "محض سلیمانی اور المہندس کی ہلاکت سے اب عراق میں مسلح گروپوں کے پاس کوئی ایک یا دو شخصیات بھی ایسی نہیں رہیں جن کے پاس جا کر آپ بات چیت کر سکیں۔ اب کوئی شخصیت نہیں جو ان جماعتوں کے حوالے سے اختیارات رکھتا ہو اور عراقی حکومت اس سے بات کر سکے"۔

ادھر ایران انٹرنیشنل نیٹ ورک کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ مصطفی الکاظمی کے وزیر اعظم کے طور پر آنے کے بعد عراق میں سلیمانی اور قاآنی کے نفوذ کا فرق واضح ہو گیا ہے۔