.

اسرائیل دنیا میں کووِڈ-19 کی ویکسین لگانے میں سب سے آگے، مگر فلسطینی مہم میں شامل نہیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں لوگوں کو کرونا وائرس کی ویکسین لگانے کی مہم زورشور سے جاری ہے اور اس پراس کی خوب مدح سرائی بھی کی جارہی ہے لیکن اس نے ویکسی نیشن کی اس مہم میں اپنے زیر قبضہ غربِ اردن اور غزہ کی پٹی میں آباد فلسطینیوں کو شامل نہیں کیا ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے امریکا کی دواساز فرم فائزر اور جرمن کمپنی بائیو این ٹیک کی تیار کردہ ویکسین درآمد کی ہے اور اس کو ملک کے کونے کونے تک پہنچا دیا گیا ہے۔اب تک آٹھ لاکھ اسرائیلیوں (یا کل آبادی میں سے 10 فی صد )کو ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

اسرائیل کی اس ویکسی نیشن مہم غربِ اردن کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے یہودی آبادکاروں کو تو شامل کیا گیا ہے لیکن علاقے میں مقیم قریباً 27 لاکھ فلسطینیوں کو اس مہم میں شامل نہیں کیا گیا ہے اور انھیں اسرائیل کے زیر انتظام ویکسین نہیں لگائی جائے گی۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہودی آبادکار اسرائیلی ریاست کے شہری ہیں مگر فلسطینی نہیں۔اسرائیل اپنی 90 لاکھ آبادی میں سے 25 فی صدکو اس ماہ کے آخر تک ویکسین لگانا چاہتا ہے جبکہ مالی مشکلات سے دوچار فلسطینی اتھارٹی کو ویکسین کے حصول کے لیے مزید انتظار کرنا ہوگا۔

فلسطینی اتھارٹی کو توقع ہے کہ اس کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے شراکتی پروگرام کے تحت ویکسین مہیا کی جائے گی۔ڈبلیو ایچ او ’کوویکس‘ ایسی انسانی امدادی تنظیموں کے ذریعے دنیا کے غریب ممالک کی 20 فی صد آبادی کو کووِڈ-19 کی ویکسین مفت مہیا کرنا چاہتا ہے۔ان غریب ممالک میں سے بعض کرونا وائرس کی وَبا سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

فلسطینی بنیادی سہولتوں سے تو محروم ہیں ہی،ان کے پاس فائزر کی ویکسین کو خرید کرنے کے نہ صرف وسائل نہیں بلکہ ان کے ہاں اس کو ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی بڑا سرد خانہ بھی موجود نہیں۔فلسطینی شہر اَریحا (جریکو) میں صرف ایک ریفریجریشن یونٹ ہے جہاں وہ ویکسین کو ذخیرہ کرسکتے ہیں۔

فلسطینی وزارتِ صحت کے ایک اعلیٰ عہدہ دار ڈاکٹر علی عبد ربہ نے گذشتہ ماہ اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ قریباً20 فی صد آبادی کو’کوویکس‘ کے ذریعے ویکسین لگا دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’سب سے پہلے طبی کارکنان کو ویکسین لگائی جائے گی اور اس کے بعد باقی آبادی کی باری آئے گی لیکن اس کا انحصار فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ویکسین کی خریداری پر ہوگا۔ہم اس سے پہلے مختلف کمپنیوں سے بات چیت کررہے ہیں۔‘‘

اسرائیل میں تحفظِ صحت کے سب کو مساوی وسائل مہیا کرنے کے لیے سرگرم گروپ فزیشنز برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ ایک قابض قوت کی حیثیت سے فلسطینیوں کے لیے ویکسین کی خریداری اور تقسیم صہیونی ریاست کی ذمہ داری ہے اور جو ویکسین اس کے اپنے تحفظِ صحت کے معیارات پر پورا نہیں اترتی ہے،اس کو مقبوضہ علاقوں میں بھی تقسیم نہ کیا جائے۔

اسرائیلی حکام نے اتوار کو کہا تھا کہ جنوری کے آخرتک لگ بھگ 20 لاکھ افراد کو کووِڈ-19 کی ویکسین کی دو خوراکیں لگا دی جائیں گی۔اسرائیل میں 19دسمبر کو فائزر کی کووِڈ-19 کی ویکسین شہریوں کو لگانے کی مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔اسی روز صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ویکسین لگوائی تھی۔

ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراک کے درمیان کم سے کم دوہفتے کا وقفہ ہونا چاہیے اور تین ہفتوں میں دونوں خوراکیں لگائی جاسکتی ہیں۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اب کرونا وائرس کی ویکسین لگانے کی رفتار کم کی جارہی ہے تاکہ ان کے پاس نئی کھیپ کی آمد سے قبل دوسری خوراک لگانے کے لیے وافر تعداد میں ویکسینیں موجود ہوں۔