.

ایران نے یورینیم کی افزودگی 20% تک بڑھا دی، جاپان کو شدید تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تہران نے پیر کی شام سے 20% کے تناسب سے یورینیم کی افزودگی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس بات کی تصدیق ایرانی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے ترجمان بہروز کمالوندی نے آج منگل کے روز کی۔ ادھر جاپان نے اس اقدام کے حوالے سے اپنے اندیشوں کا اظہار کیا ہے جو "جوہری معاہدے کی خلاف ورزی" ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کو دیے گئے بیان میں کمالوندی نے کہا کہ "پیر کی شام مقامی وقت کے مطابق 7 بجے ہم 20% کے تناسب تک پہنچ گئے"۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "فارس" کے مطابق سیاسی امور کے لیے وزارت خارجہ کے معاون عباس عراقجی کا کہنا ہے کہ ایران نے جوہری معاہدے کے بغیر (اقتصادی) زندگی کے واسطے یہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ "جوہری معاہدے یا کسی بھی دوسرے معاملے بالخصوص میزائلوں کے حوالے سے کوئی نئی مذاکرات نہیں ہوں گے"۔

عراقجی نے مزید بتایا کہ "ایران جوہری معاہدے میں امریکا کی واپسی کے لیے کوئی شرط یا کسی نئی شق کا اضافہ ہر گز قبول نہیں کرے گا۔ جب تک جوہری معاہدہ ایک کامیاب سمجھوتے میں تبدیل نہیں ہو جاتا اس وقت تک دیگر معاملات کے حوالے سے مذاکرات کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی ہے۔ ہماری مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہے اور خطے میں امریکا کے تمام فوجی اڈے فوج کی نظروں میں ہیں"۔

اس سے قبل ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیعی نے نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی "مہر" کو بتایا تھا کہ ایران نے فوردو میں زیر زمین تنصیب میں 20% کے تناسب سے یورینیم کی افزودگی کا آغاز کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ 2015ء میں بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے بعد سے ایران نے اتنی بلند سطح پر یورینیم کی افزودگی کا عمل انجام نہیں دیا تھا۔

دوسری جانب جاپانی کابینہ کے چیف سکریٹری کاتسونوبو کاتو نے منگل کے روز بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے 20% کے تناسب سے یورینیم افزودہ کرنے کے اعلان پر ان کے ملک کو شدید تشویش لاحق ہے۔

کاتو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہ یہ اقدام جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

ایران کی جانب سے حالیہ اقدام کا اعلان جوہری معاہدے کی شقوں کی عدم پاسداری میں اضافے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ایران نے عدم پاسداری پر مبنی اقدامات کا آغاز 2019ء میں کیا تھا۔ یہ اقدامات جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی اور تہران پر دوبارہ سے پابندیاں عائد کیے جانے کے جواب میں سامنے آئے۔