.

عراقی وزیراعظم کے مشیر کے قاسم سلیمانی سے متعلق بیان پرایران نوازوں کا سخت ردِّعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کے ایک مشیر کے ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کے بارے میں تنقیدی بیان پر بغداد میں ایران نوازوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ وزیراعظم سے مشیر کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

عراقی وزیراعظم کے مشیر ہشام داؤد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا:’’قاسم سلیمانی نے یہ خیال نہیں کیا تھا کہ وہ عراق کے ساتھ صرف ایک رابطہ کار کے طور پر کام کررہے تھے بلکہ وہ یہ سمجھنے لگ گئے تھے کہ وہ عراق کے ذمے دار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جب چاہتے تھے ،عراق میں آتے اور یہاں سے واپس چلے جاتے تھے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’ عراقی ریاست کے اساسی اصول قاسم سلیمانی کی ترجیح نہیں رہے تھے۔چناں چہ ان کے جانشین اسماعیل قاآنی سے عراقی حکومت نے یہ کہا تھا کہ وہ ملک میں آنے کے لیے ویزے کی درخواست دیں۔‘‘

ان کے اس بیان پر الحشد الشعبی کے پارلیمانی بلاک کے لیڈر احمد الاسدی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’قاسم سلیمانی سرکاری اور قانونی طور پر عراق میں داخل ہوتے تھے اور وہ یہاں حکومت اورعوام کی مدد کے لیے آتے تھے۔‘‘

انھوں نے ایرانی کمانڈر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ’’ وہ عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں محاذِ اوّل پر کردار ادا کرتے رہے تھے جبکہ وزیراعظم کے مشیر اس وقت کہاں تھے؟‘‘

ہشام داؤد عراق کے علاوہ فرانس کی شہریت کے حامل ہیں۔ایک عراقی عہدہ دار کا کہنا ہے کہ ان کے قاسم سلیمانی سے متعلق بیان کے بعد وزیراعظم کاظمی کے حکم پران کے مشیر کا عہدہ منجمد کردیا گیا ہے۔

مسٹر داؤد نے بعد میں ایک بیان میں ان تمام افراد سے معذرت کی ہے جنھوں نے ان کے الفاظ کوغلط سمجھا ہے لیکن بعض دوسرے ارکان نے وزیراعظم کاظمی سے داؤد کو مشیر کے عہدے سے فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران نواز مسلح گروپ بدر سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان شعلان ابوالجون نے کہا ہے کہ مصطفیٰ الکاظمی کو عراق کا لیڈر رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ان کا کہنا تھاکہ ’’جو وزیراعظم کوئی اقدام نہیں کرتا ہے،عراقیوں یا عراق کے مہمانوں کے دفاع کے لیےکوئی ایک لفظ نہیں کہتا ہے تو اس کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔‘‘

ایران کی بیرون ملک فوجی کارروائیوں کی ذمے دار القدس فورس کے کمانڈر میجرجنرل قاسم سلیمانی اور ایران کی حمایت یافتہ عراق کی شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس کی پہلی برسی دو روز پہلے منائی گئی ہے۔ وہ تین جنوری 2020ء کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرامریکا کے ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ایران نواز بعض گروپ وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی پرامریکا کے ساتھ اس ڈرون حملے میں معاونت کا الزام عاید کرتے ہیں۔