.

سلیمانی قتل کیس: ایران نے ٹرمپ سمیت 48 افسران کو اشتہاری قرار دیا، ریڈ وارنٹ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے پاسداران انقلاب کی سمندر کارروائیوں کی ذمہ دار تنظیم 'قدس فورس' کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں مبینہ طور پرملوث ہونے کے الزام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور 47 دیگر ملزمان کے انٹرپول کے ذریعے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے منگل کے روز کہا ہے کہ تہران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بین الاقوامی پولیس "انٹرپول" اور 47 دیگر ملزمان کے خلاف ایرانی پاسداران انقلاب کے قدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کے الزام میں نوٹس جمع کروائے ہیں۔ قاسم سلیمانی کو امریکی ڈرون کے ذریعے امریکی 3 جنوری 2020 ء کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرموت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

اسماعیلی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایرانی عدلیہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت سلیمانی کے قتل میں ملوث افراد کو ریڈ نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرپول کے ذریعے وارنٹ جاری کرنے کا مقصد تمام ملزمان کوعدلیہ کے حوالے کرنا اور انھیں اس جرم کے لیے مقدمہ چلانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی کی گئی ہےجس کے بعد ہم اس نتیجے تک پہنچے ہیں کی سلیمانی کے قتل کی منصوبہ بندی اور اسے انجام دینے سمیت تمام مراحل میں 48 افراد ملوث ہیں۔ منصوبہ بندی کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا۔ وہی اس کے اصل مجرم ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی محکمہ دفاع اور فوج کے وہ تمام عہدیدار جنہوں‌نے اس آپریشن میں حصہ لیا سلیمانی کے قاتل ہیں۔

اسماعیلی نے بتایا کہ مشتبہ افراد کی فہرست میں خطے میں تعینات امریکی افواج کے کمانڈروں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان سبھی لوگوں کی شناخت کی گئی تھی اور اس جرم میں ان میں سے ہر ایک کے کردار کو درج کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کردیےگئے ہیں اورانہیں اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سلیمانی کے قاتلوں کے ریڈ وارنٹ ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب حال ہی میں قاسم سلیمانی کے قتل کی پہلی برسی منائی گئی۔ سلیمانی کی برسی کے موقعے پر امریکا اور ایران کےدرمیان سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔