.

شام میں سستی مچھلی زہریلی اور جان لیوا بن گئی، متعدد افراد ہلاک، کئی بیمار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جہاں جنگ وجدل کی تباہ کاریوں اور ہلاکت خیزیوں نے عوام کی زندگی عذاب بنا رکھی ہے وہیں ایک مچھلی بھی عوام کےلیے جان لیوا ثابت ہورہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اللاذقیہ گورنری میں ایک زہریلی مچھلی کھانےسے متعدد افراد ہلاک اور کئی بیمار ہوگئے ہیں۔ مقامی سطح پر اس زہریلی مچھلی کو کئی ناموں سے جانا جاتا ہے اور یہ مقامی آبادی کی خوراک کا حصہ بھی ہے مگر یہ پہلا موقع ہے جس میں اس مچھلی کے کھانے سے اموات ہوئی ہیں۔

شام اوردوسرے عرب ممالک میں اس زہریلی مچھلی کو کئی ناموں‌ سے جانا جاتا ہے۔ البالون یعنی غبارہ مچھلی کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ کہ یہ مچھلی غبارے کی طرح کی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ الفوغو ،ارنب یعنی خرگوش مچھلی اور المنفاخ جیسے نام بھی اس مچھلی کو دیئے جاتے ہیں۔

تفصیلات کےمطابق اللاذقیہ میں ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے صحت نے ایک بیان میں بتایا کہ گورنری میں البالون مچھلی کھانے کے بعد منگل کے روز ایک بچی دم توڑ گئی۔ بچی کو پیٹ میں تکلیف کے بعد حمزہ نوفل اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئی تھی۔ اس کے بعد اس کے خاندان کے تمام سات افراد کو اسپتال لایا گیا۔ ان میں تین بچے تھے اور ان سب نے بالون مچھلی کھائی تھی جس کے بعد ان کی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔ دیگر افراد کی زندگی فی الحال بچ گئی ہے تاہم ان میں سے بعض ابھی تک اسپتال میں ہیں۔

اللاذقیہ کے بعد کے بعد ساحلی علاقے طرطوس میں محکمہ صحت کے حکام نے بھی بالون مچھلی کھانے سے ایک شخص کی موت واقع ہوئی ہے جب کہ اس کی اہلیہ کو اسپتال طبیعت خراب ہونے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ خاتون کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
گذشتہ ہفتے کے روز طرطوس میں عبدالرحمان نامی شخص کے بالون مچھلی کھانے سے موت واقع ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ڈاکٹر فراس حساموں‌نے بتایا کہ مچھلی کھانے کے تین گھںٹے اس شخص پر بیماری کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ اس شخص کو مردہ حالت میں پایا گیا۔ مرنے سے قبل اسے قے بھی ہوئی تھی۔ ایک اور شخص کو بھی طرطوس کے اسپتال میں لایا گیا جس کی حالت مذکوہ مچھلی کھانے سے بگڑ گئی تھی۔

حسامو کا کہنا ہے کہ طرطوس میں میاں بیوی اور ایک تیسرے شخص نے بالون یا فوغو مچھلی کھائی تھی جس کے بعد ان کی حالت خراب ہوگئی۔

اللاذقیہ میں بالون مچھلی کھانے سے لوگوں کے بیمار ہونے کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گذشتہ جون میں ایک چار رکنی کنبے کے تمام افراد کو بالون مچھلی کھانے کے بعد حالت خراب ہونے پر اسپتال لایا گیا۔

اسی علاقے میں دو دیگر خاندانوں کے 8 افراد کو بھی زہریلی مچھلی کھانے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا۔

اللاذقیہ میں محکمہ صحت کے عہدیدار ڈاکٹر لوئی سعید نے بتایا کہ بالون مچھلی کو مقامی سطح پر کم قیمت ہونے کی وجہ سے زیادہ لوگ کھاتے ہیں مگر یہ سستی مچھلی قاتل ثابت ہو رہی ہے۔