.

امریکی آئین کی 25 ویں ترمیم کا عندیہ ، وزراء کے بیچ ٹرمپ کی ممکنہ سبک دوشی زیر بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ روز بدھ کی سہ پہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے دارالحکومت واشنگٹن میں کیپٹول کی عمارت پر ہنگامہ آرائی اور بلوے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ میں شامل متعدد وزراء نے ٹرمپ کے سبک دوش ہونے کے امکان پر بحث کی ہے۔ یہ بات امریکی ذرائع ابلاغ نے بتائی۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کے حامی سیکڑوں افراد نے کیپٹول کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس حملے کا مقصد کانگرس کے اس اجلاس کو معطل کرنا تھا جو صدارتی انتخابات کے نتائج کی توثیق کے واسطے منعقد ہوا۔

امریکی میڈیا کے تین چینلوں "سی این این" ، "سی بی ایس" اور "اے بی سی" نے ذرائع کا نام لیے بغیر بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے وزراء کے بیچ امریکی آئین کی 25 ویں ترمیم کو فعال کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا۔

سی این این کے مطابق متعدد ریپبلکن وزراء کا خیال ہے کہ ٹرمپ "قابو سے باہر" ہو چکے ہیں۔

اے بی سی نیٹ ورک نے "متعدد ذرائع" کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزراء کے بیچ اس اقدام کے حوالے سے مباحثہ ہوا جس کی نظیر امریکا کی تاریخ میں اس سے پہلے نہیں ملتی۔

البتہ سی بی ایس چینل نے تصدیق کی ہے کہ یہ خیال ابھی محض زیر بحث ہے اور اس سلسلے میں مائیک پینس کو سرکاری طور پر کچھ نہیں پیش کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی آئین کی 25 ویں ترمیم نائب صدر اور حکومت کے ارکان کی اکثریت کو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اگر وہ دیکھیں کہ ملک کا صدر "اپنے منصب کا بار اٹھانے پر قادر نہیں" تو وہ اسے برطرف کر سکتے ہیں۔

اس ترمیم کو فعال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نائب صدر مائیک پینس کی صدارت میں حکومت کا اجلاس ہو جس میں ٹرمپ کی سبک دوشی کے فیصلے پر رائے شماری کرائی جائے۔

ادھر کانگرس میں انصاف کمیٹی کے تمام ڈیموکریٹ ارکان نے مائیک پینس کو ایک خط ارسال کیا ہے۔ خط میں ان ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ جمہوریت کے دفاع کے واسطے آئین کی 25 ویں ترمیم کو فعال کیا جائے۔

تاہم دیگر ارکان پارلیمںٹ کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ کو معزول کرنے کے مقصد سے کانگرس میں امریکی صدر کے خلاف کارروائی کی درخواست پیش کرنے کے درپے ہیں۔ البتہ اس طریقہ کار میں وقت درکار ہو گا اور اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ یہ 20 جنوری کو بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے پورا نہیں ہو سکتا۔