.

ایرانی عالم دین کی خامنہ ای سے سُنی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی شکایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ممتاز سنی مذہبی رہنما اور صوبہ بلوچستان کے مرکز زاہدان میں جمعہ کے امام الشیخ عبد الحمید اسماعیل زئی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایران کے سنی مسلمان اب بھی "دوسرے درجے کے شہری" سمجھے جاتے ہیں۔

72 سالہ مولانا عبد الحمید زئی نے کہا کہ ایران میں سنیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا بنیادی مسئلہ فیصلہ سازی کے مراکز میں مخصوص گروپوں اور لیڈروں سے تعلق رکھتا ہے۔ ایران کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے اہل سنت مسلک کے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔

مولانا عبد الحمید نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی فتح کے 42 سال بعد یران میں سنیوں کو اب بھی شہری حقوق کے بارے میں بہت سی پریشانیوں اور خدشات کا سامنا ہے۔ امتیازی سلوک اس حد تک ہے کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم ایران کے دوسرے درجے کے شہری ہیں۔

انہوں نے وزارتوں ، مسلح افواج ، اور سنی اکثریتی علاقوں میں سرکاری ملازمتوں میں اہل سنت کو دانستہ طورپر نظرانداز کرنے کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈرسنیوں کے گھمبیر مسائل کے انبار اور خوف نے ان کا اپنے ملک سے اعتماد ختم کر دیا ہے حالانکہ وہ اپنے وطن سے بہت پیار کرتے ہیں لیکن اہل سنت سہولیات سے محرومی کے نتیجے میں مایوس ہوگئے ہیں۔

علامہ اسماعیل زئی نے سنی اسکولوں کی منصوبہ بندی کونسل کے نام سے نئی تنظیم کے قیام پر بھی تنقید کی جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں سکیورٹی اور عدالتی اداروں کے ذریعے سنی مذہبی امور کی جاسوسی اور نگرانی کی جا رہی ہے۔

علامہ عبدالحمید اسماعیل زئی نے سنہ 2017ء کو خامنہ ای کو لکھے ایک مکتوب کے جواب میں سپریم لیڈر کے فرمان کا حوالہ دیا اور کہا کہ تین سال قبل جاری کردہ فرمان پر ریاستی اداروں نے عمل نہیں کیا ہے۔ اس طرح وہ محض ایک نمائشی اعلان ثابت ہوا۔حالانکہ سپریم لیڈر نے اپنے فرمان میں ملک میں اہل سنت کے ساتھ امتیازی برتائو ختم کرنے کی ہدایت کی تھی مگر اس پر ذرا بھی عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔