.

لبنانی وزرا اپنے لاو لشکر سمیت کرونا ایس اویپز کی سنگین خلاف ورزی کے مرتکب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں جہاں ایک طرف کرونا کی وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں تودوسری طرف اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی غفلت بھی کھل کرسامنے آئی ہےجس پر عوام میں حکومت بالخصوص وزیر صحت کے خلاف سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔

گذشتہ چوبیس گھںٹوں کےدوران لبنان میں کرونا کے 4 ہزار 166 نئے کیسز کا اندراج کیا گیا۔ لبنان میں کویڈ 19 کی وبا پھیلنے کے بعد یہ ایک روز میں سب سے زیادہ کیسز ہیں۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر وزیر صحت حمد حسن ، وزیر معاشیات راوول نعمہ اور کئی دوسرے عہدیدار کرونا سے بچائو کے لیے 'ایس اوپیز ' کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔

انہیں ایک کھانے کی تقریب میں دیکھا جا سکتا ہے جس میں وہ سماجی فاصلے پرعمل درآمد کی کھلی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ وزرا اور دیگر حکومتی عمال ایک دوسرے کےقریب بیٹھے ہیں اور سب ایک ہی دستر خوان پر کھانا تناول کررہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس تصویر کے بعد عوام میں وزیر صحت اور وزیر معاشیات سمیت حکومت عمال کے خلاف سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ عوام کو کرونا سے بچائو کے لیے ایس اوپیز کی تاکید کرنے والے خود اس کی کھلے عام خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

خیال رہے کہ لبنان میں 31 دسمبر کے بعد ایک روز میں کرونا کے کیسز کی تعداد 3500 سے تجاوز کرگئی ہے۔ گذشتہ جمعرات کو حکومت نے کرونا سے بچائو کے لیے یکم فروری تک ملک میں لاک ڈائون کا فیصلی کیا ہے۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ چوبیس گھںٹوں کے دوران لبنان میں کرونا کے 21 مریض دم توڑ گئےجب کہ 4166 نئے کیسز کا اندراج کیا گیا ہے۔ فروری 2020ء سے اب تک لبنان میں کرونا کے 2 لاکھ مریض سامنے آئے ہیں جب کہ 1537 اموات ہواچکی ہیں۔ لبنان ایک ایسا ملک ہے جس کی 6 کروڑ آبادی میں 25 لاکھ پناہ گزین شامل ہیں۔