.

امریکا کی ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں شمولیت 'مہلک غلطی' ہوگی: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپسی ایک مہلک غلطی ہوگی جو خطے کے ممالک کو اسلحہ کی دوڑ میں دھکیل دے گی۔

نیتن یاھو کے ترجمان کے مطابق امریکی وزیر خزانہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم یاھو نے کہا کہ اگر ہم ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر آسانی سے پیچھے ہٹتے ہیں تو مشرق وسطی کے آس پاس کے بہت سے دوسرے ممالک جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے دوڑ پڑیں گے۔ ایسا ہوا تو یہ ایک ڈراؤنا خواب بن سکتا ہے جو ایک مہلک غلطی ہوگی۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہونا چاہیئے۔

انہوں نے گذشتہ برسوں کے دوران امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف چلائی جانے والی زیادہ سے زیادہ دباؤ پالیسی کی بھی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام کو پورے خطے میں جارحیت اور دہشت گردی کی مہم کو جاری رکھنے سے روکنے اور تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے پابندیوں کی مہم جاری رکھی جانی چاہیے۔

امریکی وزیر خزانہ نے اس موقعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے ایرانی حکومت پر پابندیاں عائد کرنے اور ان پر عمل درآمد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 2018 کے بعد سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2015 کے جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہوگئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے تہران کے خلاف ہر سطح پر پابندیاں عائد کرنا شروع کردی تھیں۔