.

سلوی بارڈر کراسنگ کھل گئی؛ قطر سے ساڑھے تین سال کے بعد گاڑیوں کا سعودی عرب میں داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور قطر کے درمیان واقع سرحدی گذرگاہ کوئی ساڑھے تین سال کے بعد کھول دی گئی ہے اور ہفتے کے روز وہاں سے پہلی قطری گاڑی سعودی عرب کی حدود میں داخل ہوگئی ہے۔

سلوی بارڈر کراسنگ سے العربیہ کے نمایندے نے بتایا ہے کہ قطر سے متعدد اور گاڑیاں بھی سعودی عرب میں داخلے کی منتظر ہیں اور ان کے کاغذات کی جانچ کی جا رہی ہے۔

دونوں ملکوں نے دوبارہ سرحدی گذرگاہیں کھولنے کے بعد کرونا وائرس کی وبا سے بچاؤ کے لیے سخت قواعد وضوابط کا نفاذ کیا ہے۔ سعودی عرب سے قطر میں داخل ہونے والوں کو کرونا وائرس کی منفی ٹیسٹ رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔ سرحد پر ان کا دوبارہ کووِڈ-19 کا ٹیسٹ کیا جائے گا اور انھیں وہاں حکومت کے مقررکردہ ہوٹل میں ایک ہفتے تک قرنطین میں رہنا ہوگا۔

اسی طرح قطر سے سعودی عرب کی حدود میں داخل ہونے والوں کو کرونا وائرس کی منفی ٹیسٹ رپورٹ پیش کرنا ہوگی اور سرحد پر قائم مرکز صحت میں دوبارہ ٹیسٹ کرانا ہوگا۔ انھیں بھی سعودی عرب میں اپنی جائے قیام پر ایک ہفتے تک قرنطین میں رہنا ہوگا۔

سعودی عرب نے سوموار کی شب قطر کے ساتھ واقع اپنی فضائی ، برّی اور بحری سرحدیں دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔منگل کو العُلا میں خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے سربراہ اجلاس میں سعودی عرب سمیت چار عرب ممالک نے قطر کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے قطر کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات بحال ہوگئے ہیں۔

اس ضمن میں چار عرب ممالک اور قطر کے درمیان دوبارہ تعلقات کی بحالی کے لیے العُلا میں ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔ اس کے بعد قطرائیرویز نے جمعرات کو سعودی عرب کی فضائی حدود سے اپنے طیارے گزارنے کا اعلان کیا تھا۔ بائیکاٹ کے عرصے کے دوران میں قطری فضائی کمپنی کے مسافر اور مال بردار طیارے سعودی عرب کی فضائی حدود کو استعمال نہیں کرتے رہے تھے اور انھیں ملک سے باہر جانے اورآنے کے لیے لمبا روٹ اختیار کرنا پڑتا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ،بحرین اور مصر نے جون 2017ء میں قطر کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔ انھوں نے اس پرالاخوان المسلمون کی پشتیبانی اور دوسرے انتہا پسند گروپوں کے علاوہ ایران سے تعلقات استوارکرنے اور ان چاروں ملکوں کے داخلی امور میں مداخلت کا الزام عاید کیا تھا لیکن قطر نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

متحدہ عرب امارات نے جمعہ کو قطر کے ساتھ اپنی سرحدیں دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ العُلا اعلامیے کے بعد قطر کے خلاف کیے گئے تمام تعزیری اقدامات کو واپس لے لے گا۔