.

شام : دیرالزور میں داعش سے جھڑپ میں اسدنواز ملیشیا کے سات جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مشرقی صوبہ دیرالزور میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ساتھ لڑائی میں صدر بشارالاسد کی حامی ملیشیا کے سات جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ’’ہفتے کے روز داعش کے جنگجوؤں سے جھڑپ میں اسد نواز ملیشیا نیشنل ڈیفنس فورسز کے سات ارکان ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔‘‘

رصدگاہ کے مطابق اسدنواز ملیشیا کے جنگجو دیرالزور میں واقع قصبے الشعلہ میں داعش کے روپوش جنگجوؤں کی تلاش میں چھاپا مار کارروائیاں کررہے تھے۔اس دوران میں داعشیوں نے جوابی حملہ کردیا اور ان پر فائرنگ کی ہے۔

عراق کی سرحد کے نزدیک واقع شام کا یہ مشرقی علاقہ ماضی قریب میں داعش کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔داعش کے جنگجو اب آئے دن جنگ زدہ ملک کے مختلف علاقوں میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج یا ان کے اتحادی جنگجوؤں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

گذشتہ اتوار کو وسطی صوبہ حماہ کے علاقے وادی العزب میں داعش کے مسلح جنگجوؤں نے ایک بس پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں آٹھ فوجی ، چار اتحادی جنگجو اور تین شہری مارے گئے تھے۔داعش نے 30 دسمبر کو دیرالزورہی میں شامی فوجیوں کی ایک بس پر حملہ کیا تھا اور اس میں 37 فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا۔

داعش کا 2019ء کے اوائل میں اپنی نام نہاد خلافت کے خاتمے کے بعد سے شامی فوج پر یہ سب سے تباہ کن حملہ تھا۔داعش نے 2014ء میں شام کے مشرقی ، شمال مشرقی اور مغربی علاقوں اور عراق کے شمالی اور مغربی صوبوں پر قبضہ کرکے اپنی خود ساختہ خلافت قائم کرلی تھی لیکن پھر شامی فوج ، امریکا اور اس کی اتحادی کردفورسز اور روس نے مختلف جنگی محاذوں پر داعش کو شکست سے دوچار کیا تھا اور شامی فوج نے ان کے زیر قبضہ بہت سے علاقے واپس لے لیے تھے۔

جنگ زدہ ملک میں 2011ء کے اوائل میں صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاجی مظاہروں سے شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک تین لاکھ 80 ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔ان میں ایک لاکھ 17 ہزار سے زیادہ عام شہری تھے اوران میں 22 ہزار بچّے بھی شامل تھے۔