.

صنعاء : حوثی ملیشیا کی نئی کارستانی ، غریبوں کے ریستورانوں سے جبری بھتّوں کی وصولی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صنعاء میں حوثی ملیشیا کی جانب سے یمنیوں پر زندگی تنگ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے نئی کارستانی کے طور پر ایران نواز ملیشیا نے یمنی دارالحکومت میں درجنوں سادہ سے ریستورانوں پر جبری ٹیکس (بھتّ) عائد کر دیا ہے۔ ان ریستورانوں کے مالکان اور اس کا رخ کرنے والے افراد ایسے غریب لوگ ہیں جو پہلے ہی معاشی تنگی کے مارے ہوئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا کے کئی ذمے داران نے گاڑیوں میں گشت کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر چھاپوں کی مہم انجام دی۔ اس دوران مسلح افراد نے مذکورہ ریستورانوں کے مالکان کو مالی بھتّے ادا کرنے پر مجبور کر دیا۔

عربی روزنامے "الشرق الاوسط" نے ان عوامی ریستورانوں کے کئی مالکان کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس وقت وہ اپنی قلیل آمدنی میں جگہ کے کرائے کی ادائیگی اور گھر والوں کے بنیادی اخراجات پورے کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ ایسے قت میں حوثی ملیشیا کی جانب سے نئی جبری وصولی نے ان کے اوسان خطا کر دیے ہیں۔ ملیشیا کی جانب سے پہلے ہی کئی ناموں سے مختلف نوعیت کے ٹیکس لاگو ہیں۔

مالکان کے مطابق ملیشیا نے اس بار دھمکی دی ہے کہ اگر اس جبری بھتے کی ادائیگی نہ کی تو ریستورانوں کو بند کر کے مالکان کو جیل میں ڈال دیا جائے گا۔

صنعاء کے وسط میں ایک معمولی عوامی ریستوران کے مالک نے تصدیق کی ہے کہ حوثی ملیشیا کی ٹیمیں کئی روز سے اسے بلیک میل کرتے ہوئے ٹورزم بیورو سے جاری کیے جانے والے پرمٹ کے مقامل رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

یاد رہے کہ حوثی ملیشیا نے پہلے ہی بڑے تاجروں، کاروباری شخصیات، نجی کمپنیوں اور اداروں کے مالکان اور درآمد کنندگان پر جبری ٹیکس (بھتّے) مسلط کر رکھے ہیں۔

اس سے قبل مقامی اعداد و شمار میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ حوثی ملیشیا صنعاء اور اپنے زیر قبضہ بقیہ علاقوں میں یمنیوں سے وصولی کے ذریعے تین کھرب یمنی ریال کے قریب اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے (ایک ڈالر کی قیمت تقریبا 600 یمنی ریال ہے)۔