.

اسرائیلی حملوں کے خوف سے ایران شام کے دیر الزور سے بھاگ نکلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سرزمین پر قائم ایرانی عسکری مراکز پر اسرائیل کی طرف سے تواتر کے ساتھ ہونے والے حملوں کے بعد تازہ اطلاعات آئی ہیں کہ مزید جانی اور مالی نقصان سے بچنے اور اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے ایرانی پاسداران انقلاب نے دیر الزور میں قائم اپنا ہیڈ کوارٹر خالی کر دیا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے 'سیرین آبزر ویٹری' کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے المزارع کے مقام پر قائم اپنا ہیڈ کواٹر خالی کر دیا ہے۔ مشرقی دیر الزور میں المیادین شہر میں یہ ایران کا سب سے بڑا فوجی مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ وہاں پر موجود تمام بھاری ہتھیار وہاں سے ہٹا دیےگئے ہیں۔

ایرانی حکام نے بڑی تعداد میں فوجی گاڑیاں اور بھاری گاڑیاں المیادین کی طرف بھی منتقل کرنا شروع کی ہیں اور شہر کے مضافاتی علاقوں البلعوم اور المجری کی طرف لے جایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ المزارع کا علاقہ المیادین شہر سے 20 کلو میٹر مغرب میں واقع ہے۔ یہاں پر قائم ملٹری ہیڈ کوارٹر میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ ساتھ دیگر ایران نواز ملیشیائوں کے عناصر بھی تعینات ہیں۔

المزارع میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ٹھکانے کا قیام اپریل 2019ء میں عمل میں لایا گیا تھا۔ مقامی شہریوں کے 150 فارم ہائوسزپرقبضہ کرکے یہ ملٹری کیمپ قائم کیا گیا جسے بھاری ہتھیار رکھنے اور زینبیو، فاطمیون، عراق کی الحشد ملیشیا اور دوسرے عسکریت پسند گروپوں کی ٹریننگ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

دیر الزور سے ایرانی عناصرکے انخلا کی اطلاعات ایک ایسے وقت میں آئی ہیں‌جب دوسری طرف گذشتہ جمعرات کو ایک ڈرون طیارے نےعراق کی سرزمین پر داخل ہونے والے عراقی الحشد ملیشیا کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں چار جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے

یاد رہے کہ اسرائیل گذشتہ چند برسوں سے شام میں اسدی فوج، ایران اور لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے ٹھکانوں پر تواتر کے ساتھ حملے کررہا ہے۔

اسرائیلی عسکری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ چند مہینوں کے دوران اسرائیل نے شام میں ایرانی وجود کے خلاف مہم تیز کی ہے۔ سال 2020ء کے دوران شام میں اسرائیل نے ایرانی مراکز پر 39 فضائی حملے کیے جن میں 213 جنگجو ہلاک ہوئے۔