.

رپورٹ : لبنان کے اندر حزب اللہ کی ریاست اور ذمے داران کے بیٹوں کی دولت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اسرائیلی رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ حزب اللہ تنظیم لبنان کو درپیش سنگین اقتصادی بحران کا مقابلہ کس طرح کر رہی ہے۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق تل ابیب میں "اسرائیلی انٹیلی جنس ہیریٹیج اینڈ کامیموریشن سینٹر" کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے لبنان میں "ریاست کے اندر ایک ریاست" قائم کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں شہریوں کو ایسے متبادل پیش کیے جا رہے ہیں جو اکثر و بیشتر ریاست کی جانب سے دی جانے والی خدمات سے بہتر ہوتی ہیں۔

رپورٹ میں ان فوائد پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جو "حزب اللہ" کے سینئر ذمے داران کے بیٹے مذکورہ اقتصادی سرگرمی سے حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں حزب اللہ کے سابق سکریٹری جنرل عباس موسوی کا بیٹا یاسر موسوی اور حسن نصر اللہ کا بیٹا جواد نصر اللہ شامل ہے۔

مرکز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ لبنان میں ایک برس سے زیادہ عرصے سے شدید اقتصادی اور سیاسی بحران چھایا ہوا ہے جس کے ختم ہونے کے فی الوقت امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں۔ اس بحران کی اہم ترین وجہ ریاست کی گہرائی میں موجود بدعنوانی اور سیاسی عدم استحکام کی دیرینہ صورت حال ہے۔ مزید برآں کرونا وائرس ، امریکی پابندیوں کے منفی اثرات، بیروت کی بندرگاہ کا دھماکا، شامی پناہ گزینوں کا مسئلہ اور بیرونی امداد میں کمی سونے پر سہاگا بن گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن کا مقصد اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں شیعہ آبادی کی مدد کرنا ہے۔ ان اقدامات میں ایران کی جانب سے مالی مدد ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ مدد نہ صرف حزب اللہ کے عسکری انفرا اسٹرکچر کو بنانے بلکہ شیعہ آبادی کے بیچ حزب اللہ کے شہری اداروں کو چلانے کے لیے بھی ہے۔

یاد رہے کہ حزب اللہ نے جنوبی لبنان، جنوبی بیروت اور البقاع میں "مخازن النور" کے نام سے اسٹورز کے نیٹ ورک کا افتتاح کیا۔ یہاں ایران اور شام کی سستی مصنوعات اور سامان مارکیٹ ریٹ سے 30 سے 50 فی صد کم قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس کی ادائیگی ایک خاص کارڈ کے ذریعے کی جاتی ہے جس کو "بطاقة السجاد" کا نام دیا گیا ہے۔ اسی طرح حزب اللہ سستے مبلوسات بھی لبنان میں درآمد کر رہی ہے۔ ان ملبوسات کو مرکزی طور پر جنوبی لبنان میں فروخت کیا جاتا ہے۔

سال 2020ء کے دوران حزب اللہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں ادویات کی قلت کا انکشاف ہوا۔ اس کے جواب میں حزب اللہ نے ایران کی تیار کر دہ سستی ادویات اور طبی مصنوعات شام سے لبنان اسمگل کرنا شروع کر دیں۔ یہ ادویات اور مصنوعات فروخت کے لیے حزب اللہ کے زیر اثر دواؤں کے مراکز پر تقسیم ہوتی ہیں۔

ایندھن کی قلت کے سبب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ حزب اللہ نے ان مصنوعات بالخصوص ڈیزل کو اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں ذخیرہ کرنا شروع کر دیا۔ اس کی تقسیم میں اولین ترجیح حزب اللہ کے اپنے ایندھن اسٹیشنوں یا تنظیم کے زیر سرپرستی کام کرنے والی شیعہ جماعتوں کو دی جاتی ہے۔ بار بار بجلی کے منقطع ہونے کا علاج کرنے کے لیے حزب اللہ کی جانب سے بجلی کی جنریٹرز خریدے جا رہے ہیں۔

امریکی پابندیوں کے سبب لبنانی بینکوں میں حزب اللہ کے کھاتے بند کر دیے گئے۔ اس کے بعد حزب اللہ نے "القرض الحسن" سوسائتی کی خدمات کا دائرہ وسیع کر دیا۔ یہ سوسائٹی قرضے پیش کرتی ہے اور متبادل سوشل سیکورٹی فنڈز کو چلاتی ہے۔

حزب اللہ تنظیم اقتصادی بحران کو نظر میں رکھ کر مناسب قیمت پر پانی کی فروخت کے لیے بھی کوشاں ہے۔ وہ "العباس واٹر" پروجیکٹ کے ضمن میں بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ کی آبادی میں پینے کا پانی مفت تقسیم کر رہی ہے۔