.

ایران نے فخری زادہ قتل کیس میں‌ چار ملزمان کے ریڈ وارنٹ جاری کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پولیس کے ترجمان مہدی حاجیان نے اعلان کیا ہے کہ تہران نے اپنے جوہری سائنسدان فخری زادہ کے قتل میں ملوث چار ملزمان کے ریڈ وارنٹ جاری کرتے ہوئے انٹرپول سے ان کی گرفتاری میں مدد کی درخواست کی ہے۔ خیال رہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے 'خالق' مُحسن فخری زادہ کو 27 نومبر کو تہران کے قریب ہلاک کر دیا تھا۔

مہدی حاجیان نے ان محسن فخری زادہ کے مبینہ قاتلوں کی شناخت اور ان کے ملک کا تذکرہ نہیں کیا لیکن ایرانی عہدیداروں نے پہلے اعلان کیا تھا کہ ملزم کی شناخت کی گئی ہے اور اسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

گرفتاریوں کی خبروں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ کچھ دیگر عہدیداروں نے فخری زادہ کے قتل کے بارے میں اعلان کیا تھا اُنہیں مصنوعی ذہانت کی مدد سے خودکار ہتھیار کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔ جہاں یہ خود کار ہتھیار تھے وہاں‌ کوئی شخص نہیں تھا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے بین الاقوامی امور کے معاون حسین امیر عبد اللہیان نے کہا ہے کہ اس قتل کے کچھ مجرموں کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ایران کے اندر میڈیا رپورٹس کے مطابق قتل کے دوران جس نسان ٹرک استعمال کیا گیا تھا وہ اس حادثے سے کچھ دن پہلے ہی ملک چھوڑ گیا تھا۔

ایرانی پولیس کے ترجمان کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری عہدے داروں کا خیال ہے کہ چار قاتلوں نے ملک چھوڑ دیا ہے۔
ایرانی ہیومن رائٹس ایکٹویسٹس ایسوسی ایشن سے وابستہ نیوز ایجنسی "ہرانا" نے اطلاع دی ہے کہ محسن فخری زادہ کے قتل کے پس منظر میں سیکیورٹی آلات اور کیمروں کے کاروبار کرنے والے 50 سے زائد ڈیلروں اور مرمت کاروں کو طلب کرکے ان سے تفتیش کی گئی ہے۔