.

لبنانی صدر کی اِفشا ہونے والی وڈیو نے طوفان کھڑا کر دیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران عوامی حلقوں میں ایک وڈیو کا چرچا سامنے آیا ہے۔ یہ اِفشا ہونے والی وڈیو صدر میشیل عون اور نگراں حکومت کے سربراہ وزیر اعظم حسان دیاب کی ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں اس حکومت کے مستقبل کے بارے میں بات چیت ہوئی جس کی تشکیل ابھی تک معلق ہے۔ وڈیو ریکارڈنگ میں ظاہر ہوا کہ صدر عوان سابق حکومت کے سربراہ سعد حریری پر حکومتی تشکیل کے حوالے سے جھوٹ بولنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

پیر کے روز بعبدا میں صدارتی محل میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران دیاب نے صدر سے حکومتی تشکیل میں پیش رفت کے حوالے سے سوال کیا۔ اس پر صدر نے جواب دیا کہ "کوئی تشکیل نہیں ہوئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے مجھے ایک پرچہ دیا ہے وہ جھوٹ بو رہا ہے اور وہ جھوٹے بیانات دے رہا ہے ... اب دیکھ لو وہ کتنے عرصے سے غائب ہے۔ یہ ہے لبنانیوں کی قسمت .. اب وہ ترکی چلا گیا ہے .. معلوم نہیں کیا چیز تبدیل ہوئی ہے"۔

دوسری جانب سعد حریری کے پھوپھی زاد بھائی اور فیوچر پارٹی کے سکریٹری جنرل احمد حریری نے لبنانی صدر پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اپنی ٹویٹ میں احمد نے لکھا ہے کہ "عزت مآب صدر کا ٹویٹر جھوٹ بول رہا ہے"۔ احمد حریری نے ساتھ ہی ایک تصویر بھی منسلک کی ہے جو صدر عون کے اکاؤنٹ پر کی گئی ایک سابق ٹویٹ کی ہے۔ اس ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ انہیں نامزد وزیر اعظم کی جانب سے حکومتی تشکیل موصول ہو گئی ہے !

بیانات داغے جانے کا یہ دو طرفہ سلسلہ ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب کہ لبنان کو گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایک بدترین اقتصادی بحران درپیش ہے۔ کرونا کے سبب ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان ہونے کے سبب یہ بحران مزید سنگین ہو گیا۔ ملک میں کرونا کے متاثرین سے ہسپتال بھر گئے۔

ملک کو تباہ کن مالیاتی بحران کا سامنا ہے جس نے مقامی کرنسی لیرہ کو برباد کر دیا۔ لبنانی بینک مفلوج ہو چکے ہیں اور لوگ اپنی بچت کی رقوم سے محروم ہو چکے ہیں۔

ان تمام امور کے باوجود سیاسی شخصیات ابھی تک قومی یک جہتی کی حکومت تشکیل دینے سے قاصر ہیں اور وزارتوں کی تقسیم کے حوالے سے جھگڑ رہے ہیں۔