.

سعودی عرب: سمندر میں ڈوبتی بچیوں کو بچانے والی بہادر نرس کا قصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک بہادر نرس نے گذشتہ ہفتے اپنی بہادری اور انسانی ہمدردی کا ایک ایسا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں ہر طرف سے اسے داد تحسین پیش کی جا رہی ہے۔
بہادری اور شجاعت کا یہ واقعہ طب کے شعبے سے وابستہ نرس اسرار ابو راسین کا ہے جس نے گذشتہ ہفتے جازان کے ساحلی علاقے 'بیش' میں سمندر کی بے رحم موجوں سے لڑتے ہوئے ڈوبنے والی دو بچیوں کی زندگی بچائی تھی۔ اگر ابو راسین وہاں‌ موجود نہ ہوتی تو بچیوں کا زندہ بچنا مشکل تھا۔
اسرار ابو راسین کی اس بہادری کے ساتھ ساتھ اس کی پیراکی کی تربیت بھی ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے اس نے سمندر کی لہروں سےٹکرا کر بچیوں کی زندگی بچائی جب کہ ان دونوں کی موت یقینی ہوچکی تھی۔
اسرار ابو راسین نے بتایا میں سمندر کی موجوں کی تصاویر اور ساحلی کے خوبصورت مناظر کی تصاویر کشی اور ان نظاروں سے لطف اندوز ہونےکے لیے میں بیش کے علاقے میں پہنچی۔ ساحل پر پہنچتے ہی میں پانی میں اتر گئی اور پیراکی شروع کردی۔ اس دوران میں نے دیکھا کہ دو بچیاں سمندری پانی سے لڑ رہی ہیں۔ وہ باہر نکلنا چاہتی ہیں مگر نہیں نکل پا رہی۔ اس نے پیراکی چھوڑ کر دونوں بچیوں کو بچانے کے لیے ان کی مدد کی۔ اس دوران بارڈر پولیس اہلکار بھی وہاں‌ پہنچ آئے اور ان سب نے مل کر بچوں کو پانی سے باہر نکالا۔


نرس نے بتایا کہ ڈوبتی بچیوں ‌کو باہر نکالنے کے بعد میں نے اُنہیں فرسٹ ایڈ فراہم کی۔ ان کی نبض چیک کی۔ ان میں ایک بچی تھی بے ہوش تھی۔ ایک بچی بسملہ کی عمر 6 سال اور غادہ کی عمر 5 سال تھی۔ کچھ دیر بعد بچی کو ہوش آگیا تاہم انہیں مزید طبی امداد کے لیے بیش گورنری کے مسلیہ اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسرار ابو راسین نے بتایا کہ میں ‌نے اپنی پیراکی چھوڑ دی اور دونوں‌ بچیوں کے ساتھ ایمبولینس میں‌اسپتال پہنچی۔ میں راستے میں‌ بھی ان کی ہرممکن دیکھ بحال کرتی ہی۔ طبی عملے کا فرد ہونے کے ناطے یہ میری پیشہ وارانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کا تقاضا تھا۔
ابو راسین خمیس مشیط گورنری کے ایک اسپتال میں نرسنگ کے شعبے میں‌کام کرتی ہے اس نے اپنا نام خمیس مشیط میں کرونا کی روک تھام کے لیے تشکیل کردہ ہنگامی طبی عملے میں بھی شامل کیا ہے۔
دوسری طرف بچیوں کے والد انجینیر محمد شعبان نے کہا کہ اللہ نے میری بچیوں کو موت سے بچایا۔ میں بچیوں کی زندگیی بچانے میں نرس اسرار ابو راسین کی قربانی کو نہیں بھلا سکتا۔ اس نے حقیقی معنوں میں بہادری کا ثبوت پیش کیا ہے۔