.

" دا لائن" منصوبہ پورے خطے میں معاشی ترقی ‌کا انجن ثابت ہو گا: وزیر تجارت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر تجارت واطلاعات ڈاکٹر ماجد القصبی نے کہا ہے کہ "NEOM" میں "دی لائن" منصوبہ مجموعی طور پر اس خطے کے لیے معاشی اور ترقیاتی انجن ثابت ہوگا۔ اس سے مقامی مصنوعات میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں‌نے منصوبے کے معاشی جہتوں کی اہمیت پر زور دیا۔

القصبی نے 'العربیہ' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ NEOM پروجیکٹ کی بہت سی خصوصیات ہیں جو اسے منفرد بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمجھتے ہیں کہ اسے انتہائی مناسب طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔

القصبی جو NEOM کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر بھی ہیں نے مزید کہا کہ "نیوم" متعدد خصوصیات کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتا ہے۔ خاص طور پر یہ ایک اسٹریٹجک مقام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "دی لائن" منصوبے کا خیال دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے جو فطرت اور جدت کا حسین امتزاج ثابت ہوگا۔

خیال رہے کہ 'دی لائن' کے نام سے ایک میگا پروجیکٹ کی منظوری گذشتہ اتوار کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دی تھی۔ یہ ایک بڑا سمارٹ سٹی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعہ تیار ہونے والا منصوبہ ہے جو کاربن کے اخراج سے پاک، شور شرابے اور آلودگی سے محفوظ، نہ سڑکیں‌ہوں‌گی اور نہ ہی گاڑیاں ہوں گے۔ دی لائن کے لیے مملکت کے شمال مغرب میں بحر احمر پر ساحل نیوم پر170 کلو میٹر کا علاقہ منتخب کیا گیا ہے جو شمال میں پہاڑوں اور مشرق میں ریگستان تک پھیلا ہوا ہے۔

اس منصوبے کے ذریعے دنیا بھر کے دس لاکھ سے زیادہ افراد ،کی علمی کمیونٹیوں کو جدت اور فروغ پزیر کاروباروں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جائے گا جو دنیا کے بعض مشکل چیلنجوں سے ایک ہوگا۔

دالائن کا منصوبہ بھی نیوم اور سعودی عرب کے ویژن 2030ء کا حصہ ہے۔اس سے ملازمتوں کے تین لاکھ 80 ہزار نئے مواقع پیدا ہوں گے اور اس کی بدولت سعودی عرب کی مجموی قومی پیداوار(جی ڈی پی) میں 2030ء تک 180 ارب ریال (48 ارب ڈالر) کا اضافہ ہوگا۔

انھوں نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’پوری انسانی تاریخ میں شہران کے مکین شہریوں کے تحفظ کے لیے تعمیر کیے جاتے تھے لیکن صنعتی انقلاب کے بعد شہروں نے لوگوں پر کاروں ، مشینوں اور فیکٹریوں کو ترجیح دینا شروع کردیا۔جن شہروں کو دنیا کے جدید شہر کہا جاتا ہے،وہاں لوگ اپنی زندگیوں کے سالہا سال سفر میں گزار دیتے ہیں۔2050ء تک ان کے سفر کا دورانیہ دُگنا ہوجائے گا اور کاربن گیسوں کے اخراج میں اضافے اور سمندر کی سطح بلند ہونے کے بعد ایک ارب افراد کو محفوظ مقامات پرمنتقل کرنا پڑے گا۔تب تک 90 فی صد افراد آلودہ فضا میں زندگیاں گزار رہے ہوں گے۔