.

جوہری معاہدے کی نئی خلاف ورزی ، ایران کی یورینیم دھات کی تیاری میں پیش رفت کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو آگاہ کیا ہے کہ وہ یورینیم دھات کی تیاری میں آگے بڑھ رہا ہے تا کہ اپنے ایک ایٹمی ری ایکٹر کے لیے ایندھن حاصل کر سکے۔

یہ پیش رفت 2015ء میں طے پانے والے بین الاقوامی جوہری معاہدے کی رُو سے ایران کی ایک نئی خلاف ورزی ہے۔

آئی اے ای اے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "ایران نے 13 جنوری کو ایجنسی کو بتایا کہ مذکورہ سرگرمیوں کے واسطے مناسب مشین کی تنصیب شروع ہو گئی ہے"۔ یہ ایران کے اس منصوبے کی جانب اشارہ ہے جس کا مقصد اصفہان کے پلانٹ میں یورینیم دھات کی تیاری ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد تہران میں سرچ ری ایکٹرز کے لیے اعلی درجے کا ایندھن حاصل کرنا ہے۔

آئی اے ای اے میں ایران کے مندوب غریب عبادی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ "قدرتی یورینیم کو پہلے مرحلے میں یورینیم دھات کی تیاری کے لیے استعمال کیا جائے گا"۔

یہ ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے کیوں کہ یورینیم دھات کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ 2015ء میں طے پانے والے ایرانی جوہری معاہدے کی رُو سے تہران کے لیے "پلوٹونیم یا یورینیم کی دھاتوں کی تیاری یا ان کا حصول" ممنوع ہے۔ معاہدے کے متن کے مطابق ایران کو دس برس بعد متفقہ تھوڑی مقدار میں یورینیم کی بنیاد پر حاصل ہونے والے ایندھن کی تیاری کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے معاہدے میں شامل دیگر فریقوں کی منظوری لازم ہو گی۔

ایران نے 2015ء میں چین، امریکا، فرانس، برطانیہ، روس اور جرمنی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق یہ معاہدہ ویانا میں طے پایا تھا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی 2018ء میں اس معاہدے سے علاحدہ ہو گئے۔ اس کے بعد امریکا نے ایران پر دوبارہ سے اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔

اس کے جواب میں ایران نے 2019ء سے مذکورہ معاہدے کے حوالے سے اپنی پاسداریوں پر عمل درامد کا سلسلہ بتدریج کم کر دیا۔ نومبر 2020ء میں ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کے بعد تناؤ میں بڑی حد تک اضافہ ہو گیا۔ بعد ازاں دسمبر میں ایران پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا جس میں ایرانی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ 20% کے تناسب سے یورینیم کی افزودگی کے لیے اپنی سرگرمیوں کو براہ راست بحال کرے۔ جوہری معاہدہ طے پانے پر ایران اس سرگرمی کو معطل کر دینے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ اسی طرح منظور کیے گئے نئے قانون میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ پانچ ماہ کے اندر "یورینیم دھات کی تیاری کے لیے کارخانہ چلایا جائے"۔

ایران باور کراتا ہے کہ امریکی پابندیاں اٹھا لیے جانے پر وہ ان اقدامات کو فوری طور پر روک دے گا۔ منتخب امریکی صدر جو بائیڈن (جو 20 جنوری کو کرسی صدارت سنبھالیں گے) اپنے ملک کو ویانا کے جوہری معاہدے میں واپس لانے کے ارادے کا اظہار کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے ایک خفیہ رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ طیاری کی جانب نیا قدم اٹھایا ہے۔ اس سلسلے میں نیوکلیئر وار ہیڈز میں مرکزی مواد کی تیاری کے لیے اسمبلنگ لائن پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ بات امریکی اخبار وال اسٹرٹ جرنل نے بتائی۔

ادھر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے رکن ممالک کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران نے ایجنسی کو بتا دیا ہے کہ وہ آئندہ چار سے پانچ ماہ کے دوران اصفہان کے مقام پر یورینیم کی تیاری کا ساز و سامان نصب کر دے گا۔