.

ایرانی ادارے خامنہ ای کے حکم پرعوام پر ظلم ڈھا رہے ہیں:ہیومن رائٹس واچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم'ہیومن رائٹس واچ' نے سنہ 2021ء کی سالانہ رپورٹ میں ایران میں حکومتی سرپرستی میں عوام پرڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایرانی اداروں کو عوام پر مظالم ڈھانے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ ایرانی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی دارے عدلیہ کے ساتھ مل کر عوام کے حقوق کا استحصال کررہے ہیں۔ اپوزیشن کو کچلنے کے لیے ان کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ عوام کو حکومتی مظالم کے خلاف پرامن احتجاج کا حق بھی حاصل نہیں ‌ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں سرکاری سطح پر مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، قیدیوں کو اذیتیں دینے،غیرقانونی حراست اور جبری گم شدگی جیسے واقعات عام ہیں۔

رپورٹ میں‌ کہا گیا ہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی اور ان کی انتظامیہ انسانی حقوق کی خطرناک پامالیوں کی روک تھام میں ناکام ہے۔ ایرانی سیکیورٹی اداروں کو براہ راست آیت اللہ علی خامنہ ای کی طرف سے ہدایات ملتی ہیں اور خامنہ انے سیکیورٹی ادروں کو عوام پر مظالم ڈھانے کی کلین چٹ دے رکھی ہے۔

رپورٹ میں نومبر 2019ء کے دوران ایران میں مظاہرین کے خلاف ظالمانہ کریک ڈاون کا حوالہ دیا گیا اورکہا گیا ہے کہ نومبر 2019ء کے دوران پرامن مظاہرین نے جب سڑکیں بلاک کیں تو ان کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ نے ایران میں شہری آزادیوں کو دبانے،آزادی اظہار رائے کو کچلنے اور انٹرنیٹ کی بندش کی بھی مذمت کی ہے۔

رپورٹ میں‌ کہا گیا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے مبہم اور غیر واضح نوعیت کی اصطلاحات کی آڑ میں عوام کو دبایا جا رہا ہے۔ ریاست مخالف پروپیگنڈہ، قومی سلامتی کے خلاف کام کرنا، سپریم لیڈر کی توہین، قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے والے گروپوں میں شمولیت جیسے الزامات کی آڑ میں اپوزیشن کارکنوں، سیاسی مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو پکڑا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ایران میں سنہ 2020ء میں یوکرائن کا طیارہ مار گرائے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے 20 کارکنوں کا ظالمانہ ٹرائل کیا گیا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے ایران میں قیدیوں کو معمولی الزامات میں ظالمانہ سزائیں دینے اور سزائے موت دیئے جانے کے واقعات کی بھی مذمت کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 21 جون2020ء کو ایک سماجی کارکن سبیدہ قلیبان کو احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے کی پاداش میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

اکتیس مارچ 2020ء کو قانون دان ایڈووکیٹ محمد حسین آقاسی اور ان کے موکلین ھاشم خواستار اور محمد نوریزادہ، انسانی حقوق کارکن محمد حسینی سبھری، فاطمہ سبھری کوخامنہ ای کی برطرفی کا مطالبہ کرنے پر 16، 15، چھ اور تین سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران قیدیوں کو سزائے موت دینے والے ممالک میں اب بھی سر فہرست ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران ایران میں معمولی نوعیت کے الزامات میں 233 قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔