.

اسلحہ سرگرمیوں میں ملوث ایران کے متعدد ادارے بلیک لسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایران کی اندرون اور بیرون ملک اسلحہ کی سرگرمیوں میں ملوث کمپنیوں، جمہوریہ ایران کی شپنگ لائن کمپنی کے ساتھ کاروبار کرنے اور روایتی ہتھیاروں کی منتقلی سے متعلق سرگرمیوں میں پیش پیش تین ایرانی اداروں پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔

یہ پابندیاں ایران کی معیشت پرصدرڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے عائد پابندیوں کے سلسلے کی کڑی ہیں جن کا مقصد اسے اپنے جوہری پروگرام پر دبائو ڈال کر بات چیت پر مجبور کرنا ہے۔

ایک بیان میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ واشنگٹن نے روایتی ہتھیاروں کی تیاری اوران کی تعیناتی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ایرانی اداروں کے خلاف پابندیوں کے ساتھ ساتھ سات اداروں اور دو افراد کو بلیک لسٹ کیا ہے۔

پومپیو نے نوٹ کیا کہ ایرانی روایتی ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کو خطرہ ہے۔ پابندیوں میں ایرانی سمندری ، فضائی اور خلائی صنعتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ایرانی اسلحہ اور ہتھیار شام ، لبنان ، عراق اور یمن جیسے عرب ممالک میں تشدد کو ہوا دے رہے ہیں اور ان ملکوں‌میں خانہ جنگی کو طول دینے کا باعث ہیں اور انہوں نے مزید کہا کہ ایران بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی پھیلانے کی مہم میں جنگی کشتیوں، میزائلوں اور ڈرون طیاروں کا استعمال کر رہا ہے۔