.

بیروت:بندرگاہ پردھماکے کا سبب بننےوالا کیمیاوی مواد شام کی کاروباری شخصیات کا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں گذشتہ سال اگست میں زوردار دھماکے کا سبب بننے والی امونیم نائٹریٹ کی بھاری مقدار کا ممکنہ طور پرشام کی دو کاروباری شخصیات سے تعلق تھا۔ان پرشامی صدر بشارالاسد سے تعلق کے الزام میں امریکا نے پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔

دستاویزی فلمیں بنانے والے لبنانی فراس حاتوم کی رپورٹ کے مطابق لندن میں قائم ٹریڈنگ فرم ساوارو لیمٹڈ نے 2013ء میں کیمیاوی مواد خرید کیا تھا۔اس کا لندن میں پتا اور جارج حاسوانی اور عماد خورے سے وابستہ کمپنیوں کا پتا ایک ہی ہے۔

حاسوانی ، خورے اور ان کے بھائی مدلل خورے پر امریکا نے صدر بشارالاسد کی جنگی سرگرمیوں کی معاونت پر پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔یہ تینوں شام اور روس کی دُہری شہریت کے حامل ہیں۔

امریکا کے محکمہ خزانہ نے مدلل خورے پر 2015ء میں 2013ء کے آخر میں امونیم نائٹریٹ خرید کرکے ذخیرہ کرنے کی کوشش کاالزام عاید کیا تھا۔ محکمہ خزانہ نے ان کے بھائی عماد پرایک سال کے بعد پابندیاں عاید کردی تھیں۔امریکا نے حاسوانی پر 2015ء میں پابندیاں عاید کی تھیں۔ان پراسدحکومت کے لیے داعش کے جنگجوؤں سے تیل خرید کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا لیکن انھوں نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

برطانیہ کی کمپنیز رجسٹری کے مطابق ساوارو اور حیسکو انجنیئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کمپنی نے اپنے ریکارڈ کو لندن میں 25 جون 2011ء کو ایک ہی جگہ منتقل کردیا تھا۔امریکا نے ان دونوں کمپنیوں پر پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔

لندن کا یہی پتا آئی کے پیٹرولیم انڈسٹریل کمپنی کا رجسٹرڈ دفتر ہے۔عماد خورے اس کمپنی کے ڈائریکٹر رہے تھے۔تاہم عماد خورے نے ساوارو سے تعلق کی تردید کی ہے۔انھوں نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’لندن میں ایک رجسٹرار ہے اور بہت سی کمپنیاں اس کے ہاں رجسٹر ہیں صرف میری کمپنی ہی رجسٹر نہیں۔میں اس ساوارو کو نہیں جانتا ہوں۔‘‘

مدلل خورے کا کہنا تھا کہ’’بیروت میں دھماکے کا الزام کسی کمپنی پراس بنا پرعاید کرنے کا کوئی جواز نہیں کہ وہ لندن میں رجسٹر ہے یا اس کا لندن کا پتا ہے۔وہاں تو بہت سی کمپنیاں رجسٹر ہیں۔‘‘

ماسکو میں مقیم حاسوانی نے خود اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن ان کے بیٹے کا کہنا تھا کہ وہ اس بالکل فضول الزام پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

ادھر بیروت میں بعض مکینوں نے ساوارو اور شامی کاروباری شخصیات کے درمیان ممکنہ تعلق کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ بیروت میں ذخیرہ شدہ امونیم نائٹریٹ کی بھاری مقدار شام بھیجی جانا تھی۔

بیروت دھماکے میں متاثرہ قریباً 1400 افراد کے وکیل یوسف لاہود نے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔لبنانی وزیرانصاف میری کلاڈ نجم نے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس رپورٹ کی تحقیقات کی جائے۔

بیروت کی بندرگاہ پرامونیم نائٹریٹ کی بھاری مقدار 2013ء کے آخر میں لبنان پہنچی تھی اور چار اگست کو بیروت کی بندرگاہ پر تباہ کن دھماکا ہوا تھا۔اس سے کم سے دو سو افراد ہلاک اور سات ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے جبکہ ہزاروں مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہونے سے لاکھوں شہری بے گھر ہوگئے تھے۔

اس تباہ کن دھماکے کے الزام میں اب تک کم سے کم تیس سکیورٹی عہدے داروں ، پورٹ اور کسٹمز کے حکام کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ یادرہے کہ 2016ء میں بیروت کی بندرگاہ کا معائنہ کرنے والے ایک امریکی کنٹریکٹر نے امونیم نائٹریٹ کے دھماکے کی صورت میں تباہ کاریوں کے بارے میں خبردار کیا تھا۔