.

سلیمانی کی ہلاکت سے زیادہ اہم بات کیا تھی؟ ایرانی محقق نے واضح کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوری 2020ء میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت پر ایک سال گزرنے کے بعد بھی ایران کی فورسز اور عراق، شام، لبنان اور یمن میں تہران کے زیر انتظام ملیشیاؤں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

معروف ایرانی نژاد لکھاری اور محقق آرش عزیزی نے دو ماہ قبل شائع ہونے والی اپنی کتاب The Shadow Commander Soleimani, the US, and Iran’s Global Ambitionsمیں "حاجی" کی زندگی مشرق وسطی میں اس کی عسکری مہم جوئی کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ سلیمانی کو اس کے حامیوں نے "حاجی" کی عُرفیت دے رکھی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے انٹرویو میں عزیزی نے واضح کیا کہ "سلیمانی کئی برس تک نظروں سے اوجھل رہا۔ اس کے سبب وہ اقوام متحدہ کی پابندی سے بچ کر خطے کے ممالک کے درمیان نقل و حرکت کرتا رہا۔ تاہم زندگی کے آخری دس برسوں کے دوران وہ منظر عام پر آ گیا اور بطور کمانڈر اس کا نام اور تصویر نمایاں ہو گئی"۔

ایرانی نژاد محقق کے مطابق سلیمانی کی عدم موجودگی نے خطے میں ایرانی ملیشیاؤں کے کام پر بہت اثر ڈالا۔ سلیمانی ان ملیشیاؤں کے درمیان رابطہ کاری کی ذاتی صلاحیت رکھتا تھا۔ سلیمانی کی ہلاکت کے بعد سے تہران کی پالیسی میں تبدیلی نمایاں طور پر سامنے آئی ہے۔ ماضی میں یہ پالیسی عزائم پر زیادہ سختی سے عمل درامد پر مبنی تھی تاہم سلیمانی کا جاں نشیں اسماعیل قاآنی اس کو جاری رکھنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قاآنی اس کرشماتی شخصیات اور ذاتی تعلقات کا حامل نہیں جو سلیمانی کا خاصہ تھا۔ کوئی بھی سلیمانی کا کردار ادا نہیں کر سکتا۔

آرش عزیزی نے کہا کہ "اگرچہ خطے میں ایرانی نفوذ ایک شخصیت کے سبب قائم نہیں تھا تاہم اس کے باوجود سلیمانی کی ہلاکت کی صورت میں لگنے والی کاری ضرب سے یہ متاثر ہوا ہے"۔ عزیزی کے نزدیک سلیمانی کی ہلاکت سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ " تہران پر عائد پابندیوں کے سبب ایران اپنی ملیشیاؤں کی مادی مدد کرنے کے حوالے سے مفلوج ہو گیا۔ علاوہ ازیں عراق اور لبنان میں ایرانی نفوذ کے خلاف عوامی احتجاج اور تحریکیں سامنے آئیں"۔

ایک سوال کے جواب میں عزیزی نے واضح کیا کہ "بہت سے لوگ یہ امید کر رہے تھے کہ حزب اللہ کا سربراہ حسن نصر اللہ سلیمانی کا کردار ادا کر سکتا ہے ،،، تاہم وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ حزب اللہ کے انتظامی امور بھرپور توجہ اور کام کا تقاضا کرتے ہیں۔ لہذا یہ ممکن نہیں کہ آپ القدس فورس یا حزب اللہ کے غیر موجود کمانڈر بن جائیں۔ ایسا اس وقت ہی ممکن ہے جب نصر اللہ حزب اللہ کی قیادت سے دست بردار ہو جائے جب کہ مختلف وجوہات کی بنا پر ایسا نہیں ہو سکتا"۔

عزیزی نے اس بات کا اقرار کیا کہ حزب اللہ لبنان کے اندر نہ صرف شیعوں کے بیچ نفوذ کی حامل ہے بلکہ اس نے ملک میں سنی اور مسیحی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی پانے روابط استوار کر رکھے ہیں۔ صدر میشیل عون کی سیاسی جماعت کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات ہیں۔

عزیزی کے مطابق اس کے مقابل لبنانی عوام کے اندر حزب اللہ کو بڑے پیمانے پر غصے اور ناپسندیدگی کا سامنا ہے۔ اگر ملک میں فرقہ وارانہ نظام کو ختم کرنے کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو بلا شبہ حزب اللہ کی قوت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور ہو جائے گی۔

عزیزی نے کہا کہ عراق کا معاملہ مختلف ہے۔ وہاں بہت سے حلقے ایران کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور وہاں کی ملیشیائیں بھی بڑی حد تک خود مختار رہنا چاہتی ہیں۔ اس حوالے سے آئندہ جون میں ہونے والے انتخابات عراق کے مستقبل کا تعین کرنے میں فیصلہ کن اہمیت کے حامل ہوں گے"۔