.

ایرانیوں کو بتا دینا چاہے کہ بہت ہو گیا: فرانسیسی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس نے خبردار کیا ہے کہ ایران اپنی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے۔ لہذٰا تہران اور واشنگٹن کو 2015 میں کیے جانے والے جوہری معاہدے کی طرف فوری طور پر واپس آ جانا چاہیے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے وزیر خارجہ جین یویس لی ڈرائن نے مقامی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزیوں میں اضافہ کرتا جا رہا ہے اور رواں ماہ ایران نے زیرِ زمین جوہری پلانٹ میں یورینیم کی افزودگی کا عمل 20 فی صد تک بڑھا دیا.

عالمی طاقتوں کے ساتھ کیے جانے والے 2015 معاہدے سے پہلے ایران نے افزودگی کی یہ سطح حاصل کر رکھی تھی۔ انہوں نے کہا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم جاری رکھی۔ جس کے نتیجے میں ان کے بقول خطرات میں اضافہ ہوا۔

لی ڈرائن کا انٹرویو میں مزید کہنا تھا کہا کہ ایسا اب ختم ہونا چاہیے اور جیسا کہ وہ واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیاربنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری طرف ایران اپنے جوہری پروگرام کو ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کیے جانے سے متعلق انکار کرتا ہے۔

ایران میں صدارتی انتخابات رواں سال جون میں ہوں گے۔ اس ضمن میں لی ڈرائن کا کہنا تھا کہ ایران کو اس وقت یہ بتانا لازمی ہے کہ بہت ہو چکا۔ لی برائن کا مزید کہنا تھا کہ اگر فریقین معاہدے پر واپس آ بھی جاتے ہیں تو یہ کافی نہ ہو گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے بیلسٹک پروگرام اور اس کی طرف سے ہمسایہ ممالک میں پیدا کیے گئےعدم استحکام پر بھی بات چیت ہونی چاہیے۔

ایران کے یورینیم افزودگی کی سطح بڑھانے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ ایران بتدریج ایٹمی ہتھیار بنانے کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے چھ عالمی طاقتوں نے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کیا تھا جس کے بعد اس پر یورینیم کی افزودگی کا عمل3.67 فی صد تک رکھنے کی پابندی لگائی گئی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 2018 میں یک طرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی کے بعد ایران پر یہ الزام ہے کہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ امریکہ معاہدے پر واپس آ سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے شرط ہے کہ ایران اس معاہدے پر سختی سے عمل کرے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس پر نافذ کردہ پابندیوں کو پہلے ہٹایا جائے۔