.

صحت کے 'ایس اوپیز' کے تحت سعودی طلبا میں‌ درسی کتب کی تقسیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں تعلیمی سال برائے 2021ء بہ مطابق 1442ھ کے آغاز پر مملکت کی کئی گورنریوں میں طلبا اور ان کے والدین اور سرپرست حضرات میں درسی کتابیں تقسیم کی گئیں۔

درسی کتابوں‌کی تقسیم کے مراکز پر 'کوویڈ 19' کے خطرے کے پیش نظر صحت کے سخت ترین انتظامات کیے گئے گئے۔ کتب کی تقسیم کے لیے مختص مراکز میں آنےوالے تمام افراد کے لیے سماجی فاصلہ رکھنے، سینیٹی ٹائرز کے استعمال اور منہ کو ماسک سے ڈھانپے جیسی شرایط عاید کی گئی تھیں۔

سعودی وزارت تعلیم کی طرف سے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ 'ٹویٹر' کے ذیعے ایک اعلان جاری کیا گیا تھا جس میں والدین، اسکول کے طلبا اور اسکولوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ کتابوں کی تقسیم کے لیے مختص مراکز پر 'ایس اوپیز' کے تحت حاضر ہوکر درسی کتابیں حاصل کریں۔ حکومتی اعلان میں وبا سے بچائو کے پیش نظر سخت نوعیت کے حفاظتی اقدامات ، سماجی فاصلے، ماسک اور سینی ٹائزر کے استعمال کی ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں۔

قبل ازیں سعودی وزارت تعلیم کی طرف سے فون پربھی شہریوں‌کو کتابوں کی تقسیم کے لیے تاریخوں اور مقامات کے بارے میں تفصیلات فراہم کی گئی تھیں۔ کتابوں کے حصول سے قبل طالب کو اس کےمتعلقہ اسکول کی انتظامی کی طرف سے فراہم کردہ کتب کی رسید کے مطابق کتابیں فراہم کی گئیں۔ طلبا اور ان کے ساتھ آنے والے افراد کو بک اسٹوروں پر اجتماعی طور پر داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی بلکہ صرف متعلقہ طالب علم کو اندر آنے اور کتابیں وصول کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس دوران باقی طلبا اور ان کے ساتھ آنے والے افراد کو باہر ان کی گاڑیوں کے اندر ہی انتظار کرنے کو کہا گیا۔

سعودی عرب کی وزارت تعلیم کی طرف سے دوسرے تعلیمی سیشن کے موقعے پر اس بار تمام مراحل کے طلبا کے لیے 62 ملین کتابیں طبع کی ہیں۔