.

روحانی نے بائیڈن سے جوہری معاہدے میں واپسی کی اپیل کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے منتخب امریکی صدر جو بائیڈن سے اپیل کی ہے کہ وہ جوہری معاہدے میں واپس آئیں۔ انہوں نے رخصت ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی پر نکتہ چینی کی ہے۔

بدھ کے روز سرکاری ٹیلی وژن نے روحانی کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے اپنائی گئی "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹرمپ کے چار سالہ دور نے ظلم اور فساد کے سوا کچھ نہیں دیا اور ٹرمپ کا دور امریکی عوام اور دنیا بھر کے لیے مشکلات کا سبب بنا۔

روحانی کے مطابق اگر امریکا نے جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کی تو ایران اپنا جوہری پروگرام جاری رکھے گا۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان 1980ء سے منقطع تعلقات میں ٹرمپ کے دور میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی۔

ٹرمپ مئی 2018ء میں ایرانی جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر علاحدہ ہو گئے تھے۔ یہ معاہدہ جولائی 2015ء میں ایران اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان طے پایا تھا۔ امریکا نے معاہدے سے علاحدگی کے بعد تہران پر سخت پابندیاں دوبارہ سے عائد کر دیں جس کے منفی اثرات ایران کی معیشت اور اس کی کرنسی کی قدر پر پڑے۔

امریکا کی علاحدگی کے تقریبا ایک برس بعد ایران نے معاہدے میں شامل نکات کے حوالے سے بتدریج عدم پاسداری کا آغاز کر دیا۔

امریکا کے منتخب صدر جو بائیڈن نے عندیہ دیا تھا کہ اگر تہران جوہری معاہدے کے مکمل احترام اور پاسداری کی جانب واپس آیا تو امریکا کے اس معاہدے میں واپس آنے کا امکان ہو گا۔ یاد رہے کہ 2015ء میں جوہری معاہدہ طے پانے کے وقت جو بائیڈن اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما کے نائب تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں