.

’’شامی کیک‘‘ کی بندر بانٹ: روس، ایران اور ترکی میں مقابلہ

روس کی نگرانی میں شامی اور اسرائیلی وفود کی شام کی سرزمین پر ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں یہ اطلاعات آئی تھیں کہ شام کے شہر اللاذقیہ میں قائم 'حمیحیم' روسی فوجی اڈے پر گذشتہ ماہ روسی حکام کی موجودگی میں شامی اور اسرائیلی وفود نے ملاقات کی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں اسرائیل نے شامی حکام سے کئی مطالبات پیش کیے۔ ان میں اہم ترین مطالبہ شام سے ایرانی ملیشیائوں کے اخراج کا تھا۔ اگرچہ روسی اور شامی حکام نے اس خبر کی تردید کی ہے تاہم روس کے ایک باوثوق سفارتی ذریعے نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو بتایا کہ شامی اور اسرائیلی حکام کےدرمیان رابطے کافی عرصے سے جاری ہیں۔ روس ان رابطوں کی نگرانی کررہا ہے تاہم اس سفارتی ذریعےنے یہ نہیں بتایا کہ شام اور اسرائیل کےدرمیان کس نوعیت کے مذاکرات ہو رہے ہیں۔

رپورٹس میں‌ بتایا گیا ہے کہ شام کی جانب سے دمشق کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے حالات سازگار بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شام کا مطالبہ ہے کہ اس کی عالمی امداد بحال کی جائے تاکہ دمشق ایران کے قرضے واپس کرسکے۔ اسی طرح شام کا ایک مطالبہ یہ ہے کہ دمشق اور تہران کےدرمیان رابطوں کی وجہ سے مغرب کی شام پرعاید کردہ پابندیوں کو ہٹایا جائے۔

دوسری طرف اسرائیل کا شام سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے ایرانی ملیشیائوں کو نکال باہر کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شام میں روس اور ایران کے درمیان تصادم خارج از امکان ہے کیونکہ شام میں دونوں کے مشترکہ مفادات ہیں۔ اسی طرح روس ایران اور ایرانی ملیشیائوں کی شام میں موجودگی کو اپنی فوج کی موجودگی کے لیے ایک جواز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ شام میں روس اور ایران کے طویل المیعاد مفادات نہیں چل سکتے۔

سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی اور اس کے مفادات کی ضمانت روس کا اولین ہدف ہے۔ اسرائیل کی سلامتی کو نقصان پہنچانا روس کے لیے سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف ہے۔ اس حوالے سے روسی وزیر خارجہ سیرگئی لافروف کا ایک بیان اہمیت کا حامل ہے جس میں انہوں‌ نے کہا تھا کہ وہ شام کی سرزمین کو اسرائیل کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔