.

بغداد دھماکوں کے بعد عراقی سیکیورٹی فورسز کے ڈھانچے میں تبدیلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کے روز عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہونے والے بم دھماکوں میں کئی سیکیورٹی اہلکار افسر ہلاک ہوئے ہیں۔ بغداد بم دھماکے کے بعد وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے سیکیورٹی فورسز کے ڈھانچےمیں تبدیلیوں کے احکامات دیے ہیں۔

عراقی جنرل کمانڈ کے ترجمان یحییٰ رسول نے خبر رساں ادارے 'واع' سے بات کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم الکاظمی نے سیکیورٹی اداروں کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے احکامات دیے ہیں۔

عراقی داخلہ سیکرٹری داخلہ برائے انٹیلی جنس عامر صدام کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ احمد ابو رغیف کو سیکرٹری داخلہ برائے انٹیلی جنس مقرر کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے وزارت داخلہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے انٹیلی جنس عبدالکریم عبد فاجل کو بھی اس کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ حمید الشطری کو مسلح افواج میں ڈائریکٹر جنرل برائے انٹیلی جنس مقرر کیا گیا ہے۔

بغداد آپریشنز کمانڈ کے سربراہ قیس المحمداوی کو وزارت دفاع بلالیا گیا ہے۔

فیڈرل پولیس چیف جعفر البطاط کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ میجر شاکر جود کو فیڈرل پولیس چیف مقرر کیا گیا ہے۔

انٹیلی جنس ڈائریکٹر اپریشنز بغداد باسم مجید کو بھی ان کے عہدےسے ہٹا دیا گیا ہے۔

ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں الکاظمی کا کہنا تھا کہ عراقی عوام کاخون بہانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

عراقی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان خالد المحنا نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بغداد میں دھماکا سیکیورٹی کی ناکامی ہے۔

المحنا کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے ماضی میں دہشت گردی کی بہت سی کارروائیاں ناکام بنائی ہیں۔ دہشت گردی کی کارروائیاں شہری مراکز سے دور رہی ہیں۔

خیال رہے کہ بغداد میں گذشتہ روز ہونے والے خونی بم دھماکوں میں کم سے کم 32ا فراد ہلاک اور 110 زخمی ہو گئے تھے۔