.

ایرانی پاسداران انقلاب اور السیستانی کے وفاداروں میں شدید اختلافات سامنے آگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی وفادار 'فاطمیون' ملیشیا اور عراق کے مذہبی رہ نما علی السیستانی کے وفادار 'العباس' گروپ کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ فاطمیون ملیشیا کو عراق اور شام میں پاسداران انقلاب کا 'دست وبازو' قرار دیا جاتا ہے۔

عراقی شیعہ مذہبی پیشوا آیت اللہ علی السیستانی کے وفادار اور ان کے ماتحت عسکری گروپ العباس اور پاسداران انقلاب کی ملیشیائوں کے درمیان اختلافات کوئی حیرت کی بات نہیں اور نہ ہی وہ پہلی بار سامنے آئے ہیں۔ العباس اور ایرانی ملیشیائوں کے درمیان اختلافات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں مگر اب کی بار وہ زیادہ کھل کر سامنے آئے ہیں۔

فاطمیون ملیشیا کے ترجمان 'ذئاب نیٹ ورک' کی طرف سے العباس بریگیڈ کے سربراہ میثم الزیدی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس نیٹ ورک نے الزیدی کو 'غیر ملکی ایجنٹ' قرار دیا۔

شاید ان اختلافات کے پیچھے دونوں کی دو الگ الگ ملکوں اور لیڈروں کے ساتھ وفاداریاں ہیں۔ فاطمیون کو ایرانی پاسداران انقلاب کا وفادار گروپ سمجھا جاتا ہے اور وہ تہران اور خامنہ ای کی وفادار ہے جب کہ العباس علی السیستانی کا وفادار گروپ ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق فاطمیون ملیشیا پاسداران انقلاب کی بیرون ملک بالخصوص شام اور عراق میں سرگرم ایک بڑی تنظیم ہے جس میں زیادہ تر جنگجوئوں کا تعلق افغانستان کی شیعہ برادری سے ہے۔ اس کے جنگجوئوں کی تعداد 15 ہزار سے زیادہ بیان کی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں