اسرائیل کے مراکش کے ساتھ تعلقات اپ گریڈ کرنے کے معاہدے کی یاہوکابینہ سے منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ نے اتوار کے روزعرب ملک مراکش کے ساتھ تعلقات کو اپ گریڈ کرنے سے متعلق معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔اب اس سمجھوتے کو توثیق کے لیے اسرائیلی پارلیمان میں بھیجا جائے گا۔

اسرائیل کی اقتصادی امور کی وزارت نے کہا ہے کہ اس کا مراکش کے ساتھ تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے بھی ایک سمجھوتا طے پایا ہے۔اس کے بہ قول دونوں ملک اس سمجھوتے کو دو ہفتے میں طے کرنا چاہتے تھے۔

اسرائیل اور مراکش نے دسمبر میں امریکا کی ثالثی میں معمول کے تعلقات استوار کرنے سے اتفاق کیا تھا۔ مراکش گذشتہ چار ماہ میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کا اعلان کرنے والا چوتھا عرب ملک تھا۔

امریکا کے سبکدوش صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 دسمبر کو مراکش کے شاہ محمد ششم سے فون پر بات چیت کی تھی اور مراکش کے اسرائیل کے ساتھ امن سمجھوتے کا اعلان کیاتھا۔ اس کے تحت مراکش، اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات اور سرکاری روابط استوار کرے گا،اس کی پروازوں کو اپنی فضائی حدود سے گذرنے کی اجازت دے گا اور تمام اسرائیلیوں کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان اپنی پروازیں چلائے گا۔

اس امن معاہدے کے حصے کے طور پر امریکی صدر نے مغربی صحرا کے تمام علاقے پر مراکش کی خود مختاری تسلیم کرنے سے اتفاق کیا تھا۔اس علاقے پر مراکش کا الجزائر کی حمایت یافتہ تحریک پولیسیاریو فرنٹ سے تنازع چل رہا ہے۔ یہ تحریک اس علاقے میں اپنی آزاد ریاست قائم کرنا چاہتی ہے اور وہ 1970ء کے عشرے سے اس مقصد کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا کے نئے صدر جو بائیڈن نے مغربی صحرا کے بارے میں ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے دشمن ملک ایران کو تنہا کرنے کے لیے عرب ملکوں سے یہ امن معاہدے کیے ہیں۔ان کے ساتھ ان ملکوں کو پُرکشش کاروباری موقع مہیا کرنے یا اقتصادی امداد دینے کے خوش نما وعدے کیے گئے ہیں۔

مراکش کے شاہ محمد ششم نے فلسطینی صدر محمود عباس کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کا ملک بدستور اسرائیلی، فلسطینی تنازع کے دو ریاستی حل کا حامی ہے۔ انھوں نے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے اعلان کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی اور کہا تھا کہ ’’اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات ہی تنازع کے حتمی، پائیدار اور جامع حل تک پہنچنے کا واحد راستہ ہیں۔‘‘

دریں اثناء متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے کاروباری مرکز تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کی منظوری دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں