ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکا اور اسرائیل کی مشاورت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

نئی امریکی انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پرمشاورت شروع ہوگئی ہے۔اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر مائیر بن شبات نے ہفتے کے روز امریکی ہم منصب جیک سولیوان کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ دونوں رہ نمائوں کے درمیان ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔

آئندہ ماہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے چیف یوسی کوھین امریکا کا دورہ کریں‌گے جہاں وہ واشنگٹن میں ' سی آئی اے' کے سربراہ ولیم برنز اور امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں وی ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں متوقع امریکی واپسی کے بارے میں اسرائیلی موقف واضح‌ کریں‌ گے۔ یوسی کوھین امریکی حکام سے ملاقات میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں امریکا کی واپسی کے بارے میں تل ابیب کی طرف سے تجاویز پیش کریں گے۔

ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ نے سنہ 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے میں ایران کی واپسی کے بارے میں ایران کے ساتھ درپردہ بات چیت کا آغاز کیا ہے۔ اسرائیل کے عبرانی ٹی وی چینل '12' نے بتایا کہ امریکا نے ان مذاکرات کے بارے میں اسرائیل کو بتایا ہے۔ اسرائیلی خبار'ٹائمز آف اسرائیل' نے بھی ان اطلاعات کی تصدیق کی تھی۔

خیال رہے کہ نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک سے زاید مواقع پر ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے میں امریکا کی واپسی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں