.

حکومتی موقف کے برعکس جواد ظریف امریکا سے جامع مذکرات کے حامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جامع مذاکرات ممکن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے علاوہ امریکا کے ساتھ تمام حل طلب مسائل پر بات چیت کی جاسکتی ہے۔ خیال رہے کہ ایرانی حکومت امریکا کے ساتھ مذاکرات سے انکار کرتی رہی ہے۔

ایران کے فارسی اخبار'اعتماد' کو دیئے گیے ایک انٹرویو میں جواد ظریف نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ جامع اور تمام حل طلب مسائل پر مذاکرات ممکن ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ تیل، خلیجی ممالک کی سلامتی اور افغانستان میں امن سمیت تمام مسائل پر بات کر سکتا ہے۔

تاہم جواد ظریف نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات ان کی ذاتی رائے ہے۔ یہ حکومت کاموقف نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امریکا کے ساتھ تعلقات کو حتمی شکل دینا چاہیے۔

جواد ظریف نے کہا کہ ٹرمپ کی اقتدار سے سبکدوشی کے بعد امریکا کے لیے جوہری معاہدے میں واپسی اور تعلقات کی بحالی کا موقع موجود ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایران نواز مسلح جماعتوں کی مدد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ایران صرف ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختلف تنظیموں کی مدد کررہا ہے اور یہ امداد امریکی خارجہ پالیسی کے مفادات کا حصہ ہے۔ امداد لینے والی تنظیمیں خطے میں ایران کی آلہ کار نہیں ہیں۔

جواد ظریف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے سنہ 2012ء کے بعد شام میں اسد رجیم کا اقتدار بچانے کے لیے اسے 16 ارب ڈالر کی رقم دی جب کہ عراق، یمن، لبنان اور فلسطین میں عسکریت پسندوں کوبھی اربوں ڈالر دیے گئے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایران لبنانی حزب اللہ کو سالانہ 20 کروڑ ڈالر80 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے درمیان رقم فراہم کرتا رہا ہے۔ اسی طرح گذشتہ برسوں کےدوران فلسطینی تنظیم 'حماس' اور اسلامی جہاد کو 60 سے 70 ملین ڈالر کی رقم فراہم کرتا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں