شام میں سب سے بڑی مالیت کا کرنسی نوٹ جاری، بشار اور اس کے والد کی تصاویر غائب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شامی حکومت کی طرف سے حالیہ مہینوں میں بار بار ان خبروں کی تردید کی جاتی رہی ہے کہ حکومت ایک نیا کرنسی نوٹ لا رہی ہے۔ اس تردید کے باوجود حکومت نے 5000 لیرا مالیت کا نوٹ جاری کیا ہے۔ شامی کرنسی میں یہ اب تک کا سب سے بڑا نوٹ ہے۔ یہ کرنسی نوٹ اتوار سے مارکیٹ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

شامی رجیم کے مالیاتی اداروں نے حالیہ عرصے کے دوران ان خبروں کی سختی سے تردید کی تھی کہ حکومت ایک نیا اور سب سے بڑا کرنسی نوٹ لا رہی ہے۔ اس تردید کی وجہ پہلی سے زوال کا شکار کرنسی کو مزید زوال سے بچانا تھا کیونکہ اگر نوٹ کے آنے سے قبل اس کی خبر کی تصدیق کی جاتی تو شامی لیرا کی قیمت مزید گر جاتی۔

ادھر شام کے مرکزی بنک نے باقاعدہ طور پر نئے کرنسی نوٹ کی منظوری دی ہے۔ یہ کرنسی نوٹ 2018ء میں چھاپہ گیا تھا مگر بعض وجوہ کی بنا پر اسے مارکیٹ میں نہیں لایا گیا۔

خیال رہے کہ شامی کرنسی کی قیمت میں‌ کمی کے بعد 2017ء کو 2000 لیرا مالیت کا کرنسی نوٹ جاری کیا گیا تھا۔ اس کے تین سال کے بعد آج پانچ ہزار لیرا کا نوٹ جاری کیا گیا ہے۔ اس نئے کرنسی نوٹ پر بشارالاسد اور ان کے والد حافظ الاسد کی تصاویر غائب ہیں اور ان کی جگہ ایک سپاہی کی تصویر ہے جو ایک بلیک اینڈ وائٹ شامی پرچم کو سلامی پیش کر رہا ہے۔

اس سے قبل شامی کرنسی کے 1000 لیرا کے نوٹ پر حافظ الاسد اور بشارالاسد کی تصاویر تھیں۔

جہاں تک شامی کرنسی کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں قیمت کا تعلق ہے تو بلیک مارکیٹ میں 5000 لیرا دو امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ اس سے قبل 2900 لیرا کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت 2900 تھی اور قیمت فروخت 2920 جاری کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں