.

ٹرمپ سے انتقام لینے کی ایرانی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں:جوبائیڈن انتظامیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی نئی انتظامیہ نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی طرف سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پاسداران انقلاب کےکمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کی دھمکی کو مسترد کر دیا ہے۔

امریکی قومی سلامتی کونسل نے کل ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ ایران کے رہبر اعلیٰ کی دھمکیاں اشتعال انگیز اور ناقابل قبول ہیں۔

امریکی قومی سلامتی کونسل نے ایران کے مکروہ کردار اور خطے میں ایرانی اثرو رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے دوست اور اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے عزم کا اعادہ کیا۔

خیال رہے کہ جمعہ کے روز ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے 'ٹویٹر' پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ٹرمپ سے قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا۔ اس موقعے پرانہوں ایک تصویر بھی پوسٹ کی جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کو گالف کھیلتے دیکھایا گیا۔ اس دوران ایک ڈرون طیارہ انہیں نشانہ بنا رہا ہے۔ اس متنازع تصویر کے بعد ٹویٹر نے خامنہ ای کا اکائونٹ بلاک کردیا تھا۔

اس پوسٹ میں خامنہ ای کے دسمبر میں بیانات پیش کیے گئے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "انتقام ناگزیر ہے"۔ خامنہ ای نے بغداد ہوائی اڈے پر حملے میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی پہلی برسی کے موقعے پر جاری کردہ بیان کا اعادہ کیا۔

ٹویٹر نے واضح کیا کہ اس نے خامنہ ای کے ذاتی اکاؤنٹ کو معطل نہیں کیا ہے۔ کمپنی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ سماجی رابطے کی سائٹ نے خمینی سے وابستہ 'خامنہ ای سائٹ' اکاؤنٹ کمپنی کی پالیسی کی خلاف ورزی پر معطل کیا ہے۔

خامنہ ای نے 16 دسمبر کو ٹویٹر پر لکھاکہ"جن لوگوں نے جنرل سلیمانی کے قتل کا حکم دیا اور جنہوں‌نے اس پرعمل درآمد کرایا۔ اب سب کوسزا ملنی چاہیے تاہم انہوں نےاس ٹویٹ میں ٹرمپ کا نام نہیں لیا تھا۔