.

داعشی خاتون کا یرغمال مصری بچی کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں موجود ایک داعشی خاتون نے یرغمال بنائی گئی ایک کم سن مصری بچی کے اقارب سے بچی کی رہائی کے بدلے بھاری رقم کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شام کے علاقے الحسہ میں الھول پناہ گزین کیمپ میں ایک داعشی جنگجو کی بیوی نے یرغمال بنائی گئی مصری بچی کے اقارب سے بھاری رقم کا مطالبہ کیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اس خاتون کی ایک صوتی ریکارڈنگ ملی ہے جس میں اسے بچی کے عمر رسیدہ داد سے بچی کے بدلے رقم کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ ایک کم سن بچی عائشہ عصام الدین کے والدین شام میں داعش اور شامی فوج کے درمیان لڑائی کے دوران ہلاک ہوگئے تھے جب کہ ان کے دو کم سن بچے عائشہ اور اس کا بھائی بچ گئے گئے۔ عائشہ کو ایک داعش خاتون نے یرغمال بنا لیا تھا۔

صوتی ریکارڈںگ میں‌الھول کیمپ میں موجود داعشی خاتون کو عائشہ عصام الدین کے دادا سے بھاری رقم کا مطالبہ کرتے سنا جا سکتا ہے۔

بزرگ مصری شہری محمد عبدالرحیم نے بتایا کہ اس کی پوتی عائشہ اور اس کا بھائی شام میں الحسکہ کے علاقے میں قائم الھول کیمپ میں یرغمال ہیں۔ عائشہ کی عمر چھ سال اور اس کے بھائی کی عمر چار سال ہے۔ ان دونوں بچوں‌کی دیکھ بحال ایک داعشی خاتون ام حمزہ نے کی ہے۔ خاتون نے ایک کرد اسمگلر کے ذریعے ہم سے رابطہ کیا ہے۔

مصری شہری کا کہنا ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں اپنی پوتی کی رہائی کے لیے داعشی خاتون کو رقم ارسال کرتا ہوں تو مجھ پر 'داعش' کی فنڈنگ کا الزام لگ جائے گا۔

انہوں‌نے بتایا کہ میرا بیٹا پاکستان میں تھا جہاں اس نے القاعدہ میں شمولیت اختیار کی۔ وہاں سے وہ شام گیا اور 'داعش' میں شامل ہوگیا۔ اس کے ساتھ اور کی افغانی بیوی بھی تھی۔ یہ خاتون تحریک طالبان سے تعلق رکھتی ہے۔ میرے بیٹے کو شام میں ایک بریگیڈ کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ وہ لڑائی کے دوران اپنے بیوی سمیت مارا گیا۔

مصری بزرگ نے کہا کہ شام سے ملنے والی ریکارڈنگ میں‌ خاتون کا اصل نام واضح نہیں اور یہ ویڈیو مشکوک لگتی ہے۔ ایسا نہ ہوکہ میں بچی کی بازیابی کے لیے رقم بھیجوں مگر وہ کسی اور کے ہاتھ لگ جائے۔ اس نے مصری اور شامی حکومتوں سے بچی کی بازیابی میں مدد دینے کی اپیل کی۔

یاد رہے کہ الھول کیمپ میں 70 ہزار سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں۔ان میں سے بیشترکا تعلق'داعش' سے ہے۔ ان میں 200 مصری خواتین ہیں۔ کیمپ میں بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث آئے روز ہلاکتیں‌ہو رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھوک، افلاس اورطبی سہولیات کے فقدان کے باعث الھول کیمپ میں ایک دن میں‌10 سے 20 افراد کے جنازے اٹھائے جاتے ہیں‌۔