.

سعودی عرب میں عائلی امور سے متعلق مفصل قواعد وضوابط پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں شہریوں کی عائلی زندگی کے نئے نظام کی منظوری جلد متوقع ہے۔ نئے نظام کی متعدد شقوں میں عائلی امور سے متعلق تمام لازمی ضوابط وضع جا رہے ہیں۔ ان میں نکاح، اس کی صحت کی شرائط، شوہر اور بیوی کے حقوق، نان نفقہ اور نسب کا ثابت ہونا جیسے امور شامل ہیں۔

اسی طرح نئے منصوبے میں زوجین کے درمیان علاحدگی، طلاق، خلع، فسخ نکاح، عدت، بچوں کی تحویل، وصیت، عدالت کے مقرر کردہ ولی، لاپتہ فرد، وصیت کو کالعدم بنانے والے امور، ترکہ، میراث، ورثاء وغیرہ سے متعلق ضوابط زیر بحث آئے ہیں۔

نئے نظام کے مطابق نسبت طے پانے کے بعد نکاح سے پہلے تک مرد یا خاتون منگیتر ایک دوسرے کو جو اشیاء بھی پیش کریں گے وہ سب تحفہ شمار ہوں گی ،،، جب تک کہ مرد منگیتر صراحتا یہ واضح کر دے کہ اس نے جو پیش کیا ہے وہ مہر شمار کیا جائے۔ نسبت ختم کرنے کی صورت میں فریقین میں سے کوئی بھی دیے گئے تحفوں کو واپس نہیں لے سکے گا۔ البتہ ہدیہ استعمال نہ ہونے یا ختم نہ ہونے کی صورت میں دوسرے فریق کو یہ تحائف واپس کرنا ہوں گے۔

نئے نظام میں زور دیا گیا ہے کہ والد سمیت کسی ولی کو بھی اجازت نہ ہو گی کہ وہ اپنے زیر ولایت خاتون کو ایسے شخص سے شادی کے لیے روک سکے جو کفو میں ہم پلہ ہو اور خاتون شادی کے لیے راضی ہو۔ درخواست دینے کی صورت میں عدالت ان خاتون کی شادی کے معاملے کی نگرانی کرے گی۔ عدالت مصلحت کے تحت کسی بھی دوسرے ولی کا تعین کر سکتی ہے۔

اسی طرح نئے نظام کے متن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ زوجین کی عمر 18 برس ہونے سے قبل کسی بھی شادی کی منظوری نہیں دی جائے گی۔ ایسی صورت میں 18 برس سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی کے لیے عدالت کی اجازت ضروری ہو گی۔ عدالت مصلحت کا جائزہ لے کر ایسی شادی کی اجازت دے سکتی ہے۔

نئے نظام کے تحت نکاح نامے میں مہر کے کلی یا جزوی طور پر التوا پر طرفین کے اتفاق رائے کی اجازت دی گئی ہے۔ اگر نکاح نامے میں اس کے التوا کا ذکر نہ ہو اور اس کی حوالگی کا کوئی وقت متعین نہ کیا گیا ہو تو پھر مطالبے پر مہر کو حوالے کرنا ہو گا۔ خلوتِ شرعیہ سے قبل طلاق کی صورت میں مطلقہ نصف مہر کی مستحق ہو گی۔ اگر مہر کی رقم مذکور نہ ہو تو مطلقہ کو مہر مثل کے نصف سے زیادہ نہیں ملے گا۔

نظام میں واضح کیا گیا ہے کہ بیوی کا نان نفقہ شوپر پر واجھ ہے خواہ عورت آسودہ حال ہو۔ اگر عورت کے نفقے کا کوئی ذریعے میسر نہ ہو تو اس کا نان نفقہ ریاست پر ہے۔ عورت کے نان نفقے میں کھانا پینا، کپڑا، رہائش اور عُرف کے مطابق بنیادی ضروریات شامل ہیں۔