.

عراق: ناصریہ کی سنٹرل جیل میں تین افراد کو دہشت گردی کے جُرم میں پھانسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے جنوبی شہر ناصریہ کی سنٹرل جیل میں دہشت گردی کے جرم میں تین افراد کو سوموار کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق انھیں 2005ء کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت قصور وار قرار دے کر پھانسی کی سزا کا حکم دیا گیا تھا۔عراقی ذرائع نے بتایا ہے کہ ان افراد کو دفعہ 4 کے تحت دہشت گردی کے جُرم میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا گیا تھا۔

اس قانون کے تحت دہشت گردی میں ماخوذ قرار دیے گئے کسی بھی فرد کو پھانسی کی سزا دی جاسکتی ہے، خواہ اس کا تعلق کسی دہشت گرد گروپ سے عمومی نوعیت کا رہا ہو۔

ان افراد کی پھانسی سے چندے قبل انسانی حقوق کے علمبردار گروپوں نے خبردار کیا تھا کہ بغداد میں گذشتہ جمعرات کو تباہ کن بم دھماکوں کے بعد عراقی حکام ایک مرتبہ پھر جیلوں میں بند ملزموں کو تختہ دار پر لٹکانے کا عمل تیز کرسکتے ہیں۔بغداد میں دو خودکش بم دھماکے میں 32 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

عراق کے ایوان صدر کے ایک عہدہ دار نے اتوار کو فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا تھا کہ دہشت گردی یا دوسری مجرمانہ سرگرمیوں میں ماخوذ 340 مجرموں کو تختہ دار پر لٹکانے کے احکامات تیار ہیں۔ان کے بعد ان مجرموں کو پھانسی دے دی جائے گی۔

ایوان صدر کے ایک اور عہدہ دار نے بتایا تھا کہ ان افراد کو تختہ دار پر لٹکانے کے لیے تمام احکامات 2014ء کے بعد جاری کیے گئے تھے اور ان میں سے بیشتر پرسابق صدر فواد معصوم کے دور میں دست خط کیے گئے تھے۔تب داعش نے ملک کے ایک تہائی حصے پر قبضہ کررکھا تھا۔

واضح رہے کہ عراقی حکومت نے دسمبر 2017ء میں داعش کے خلاف جنگ میں فتح کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد سے سیکڑوں افراد کواس سخت گیرجنگجو گروپ سے تعلق کے الزام میں سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔

عراق کی عدالتوں میں داعش سے تعلق کے الزام میں دسیوں غیرملکی شہریوں کے خلاف بھی مقدمات چلائے گئے ہیں اور اب تک 11 فرانسیسی شہریوں اور ایک بیلجیئن کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق عراق دنیا میں پھانسیاں دینے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے۔2019ء میں عراق میں مختلف الزامات میں سزائے موت پانے والے 100 افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا۔عراقی حکام پر جیلوں میں ملزموں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات بھی عاید کیے جاتے ہیں۔