.

کیا بائیڈن دو ریاستی حل کو منطقی انجام تک پہنچا سکیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں قائم مقام امریکی سفیر رچرڈ ملز کا کہنا ہے ’’کہ ان کا ملک فلسطین سے اپنے تعلقات بحال کرتے ہوئے مہاجرین کی بحالی کے لیے معطل شدہ مالی امداد کا سلسلہ دوبارہ شروع کرے گا۔‘‘ ادھر وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے رام اللہ اور تل ابیب کے درمیان تنازع کو دو ریاستی اصول کے تحت حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

بائیڈن کی انتخابی مہم پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ بات باعث حیرت نہیں ہے کہ تجزیہ کار جو بائیڈن کے چار سالہ دور اقتدار میں مسئلہ فسلطین کے دو ریاستی اصول کی بنیاد پر حل کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے دور حکومت میں تنظیم آزادی فلسطین ’’پی ایل او‘‘ کے امریکا میں نمائندہ دفتر کو بند کر دیا گیا تھا۔ امریکا کی طرف سے فسطینیوں کو دی جانے والی امداد یہ کہتے ہوئے روکی گئی کہ اسے دہشت گردی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

نتیجتاً اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین کو مدد فراہم کرنے والی ایجنسی برائے مہاجرین ریلیف اینڈ ورکس [اونروا] کے فنڈز میں 350 ملین سالانہ کی کمی واقع ہو گئی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن کی امریکی سینٹ سے توثیق کے لیے ہونے والی سماعت کے دوران بائیڈن کے نامزد سیکرٹری خارجہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ بائیڈن انتظامیہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تنازع کو دو ریاستی اصول کی بنیاد پر حال کرنے کے لئے پرعزم ہے۔

انھوں نے اسرائیلی سلامتی کے لیے امریکا کی حمایت کا عہد کرتے ہوئے بتایا کہ واشنگٹن مشرق اوسط میں اپنے اتحادی کا دفاع کرے گا۔ اسرائیل کے لیے واشنگٹن کی مضبوط حمایت تبدیل نہیں ہو سکتی، تاہم فلسطین کے معاملے میں امریکا کی اپروچ میں تبدیلی کا امکان ضرور ہے۔ مثلاً امریکا کے سفارتخانے کی تل ابیب سے یروشیلم منتقلی کا فیصلہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔

نئی امریکی انتظامیہ دوسرے ملکوں کو اسرائیل سے تعلقات نارملائز کرنے کا کام اس مقام سے شروع کرے گی جہاں ٹرمپ انتظامیہ چھوڑ کر گئی ہے۔ قائم مقام امریکی سفیر نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو بتایا کہ تاہم صدر بائیڈن اور ان کی ٹیم ’’عرب۔اسرائیل تعلقات نارملائزیشن کو اسرائیل۔فلسطین امن عمل کا متبادل نہیں سمجھتی۔‘‘

مسٹر ملز کا کہنا تھا کہ امریکا اسرائیلی حکومت اور فلسطینیوں پر زور دے گا کہ وہ مقبوضہ اراضی کو اسرائیل میں ضم کرنے، آباد کاروں کے نئے مکانات کی تعمیر، فلسطینیوں کے مکانات گرانے اور دہشت گردی میں ملوث زیر حراست افراد کو معاوضہ دینے سے یک طرفہ اقدامات سے گریز کریں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جن ساکی کے مطابق صدر بائیڈن سمجھتے ہیں کہ ’’دو ریاستی حل ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔‘‘فلسطینیوں سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کے باوجود یہ شبہہ اپنی جگہ موجود ہے کہ بائیڈن تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کی جانب کتنی پیش رفت کرنے میں کامیاب ہوں گے؟

واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے صدر پال سالم سمجھتے ہیں کہ [اسرائیل۔فلسطین] تنازع کے حل کی جانب حقیقی پیش رفت نہیں ہو سکے گی، تاہم بائیڈن انتظامیہ تعلقات میں کشیدگی کی فضا کم کر پائے گی جو ٹرمپ دور میں انتہائی منفی رخ اختیار کر چکی تھی۔انھوں نے مزید کا کہ اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے والی عرب ریاستوں سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ فلسطینیوں کو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی میز سجانے پر آمادہ کرنے میں تعمیری ادا کریں۔

فلسطین اور اسرائیل میں پیش آئندہ انتخابات کے نتیجے میں دونوں جگہ سامنے آنے والی نئی قیادت پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ اس سے جزوی معاشی ترقی، سیکیورٹی روابط اور غزہ کے معاملے میں کچھ پیش رفت ہونے کا امکان ہے۔ سالم نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ ’’دو ریاستی حل کو حقیقی معنوں میں روبعمل لانے کی خاطر ہمیں اسرائیلی رویے میں تاریخی تبدیلی کا انتظار کرنا ہو گا۔‘‘