.

اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں پر امریکی وزیر خارجہ کی تحسین

امریکا خطے میں امن کے فروغ کے لیے بنظر غائر کام کرتا رہے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن کا کہنا ہے کہ ان ملک خطے میں امن کے فروغ کے لیے بنظر غائر کام کرتا رہے گا۔

امریکی دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق وہ اپنے اسرائیلی ہم منصب غابی اشکنازی سے ٹیلی فون پر بات کر رہے تھے جس میں انھوں نے ابراھم معاہدوں کی شکل میں کی جانے والی پیش رفت کی تحسین کی اور کہا کہ امریکا ان معاہدوں کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکا نے ابراھم نامی امن معاہدات میں سہولت کار کا کردار ادا تاکہ عرب اور اسلامی ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی راہ ہموار ہو سکے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار کے چند آخری مہینوں میں اسرائیل نے یو اے ای، بحرین، مراکش اور سوڈان کے ساتھ امن معاہدات پر دستخط کئے تھے۔

امریکی صدر جو بائیڈن پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’’سب سے پہلے امریکا‘‘ والی پالیسی سے متوقع طور پر انحراف کر سکتے ہیں، تاہم انھوں نے ابراھم معاہدوں کو بنیاد بنا کر امن عمل کو آگے بڑھانے کا عندیہ دے رکھا ہے۔

ایران پہلے وعدے پورے کرے

قبل ازیں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتونی بلنکن نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں صرف اسی وقت واپس آئے گا جب تہران کیے گئے وعدوں پر پورا اترے گا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی سیکرٹری خارجہ نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے متعلق ایک طویل تصدیقی عمل سے گزرنا ہے۔

اپنے دفتر میں پہلے دن کام کرتے ہوئے انتونی بلنکن کا کہنا تھا کہ صدر جو بائیڈن ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپسی کی خواہش ضرور رکھتے ہیں مگر انہوں نے تہران کے اس دباؤ کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اس حوالے سے پہل کرے۔
نیوز کانفرنس میں سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ’ایران کئی محاذوں پر عمل درآمد کرنے سے دور ہے۔ اور اس پر ہمیں فیصلہ کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ ہم وقت آنے پر یہ دیکھیں گے کہ کیا تہران اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’کم سے کم یہی کہا جا سکتا ہے کہ ابھی ہم وہاں نہیں پہنچے۔‘

خیال رہے کہ سابق ڈونلڈ ٹرمپ نے باراک اوبامہ کے دور میں ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے سے سنہ 2015 میں علیحدگی اختیار کر لی تھی اور تہران پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ ایران نے اس کے جواب میں جوہری معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد میں کمی کی تھی۔ کئی عالمی طاقتوں کی شمولیت سے کیے گئے معاہدے کے تحت ایران کو جوہری پروگرام میں بڑے پیمانے پر کمی کے عوض معاشی فوائد کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

انتونی بلنکن نے کہا کہ ’صدر جو بائیڈن نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران اگر معاہدے کی شقوں پر عمل کرتا ہے تو امریکہ بھی ایسا ہی کرے گا۔‘ تاہم ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے مطالبہ کیا تھا کہ پہلے امریکہ معاہدے پر عمل کرے اور صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمد پر لگائی گئی پابندیاں اٹھائے۔

ایرانی حکام کو خدشہ ہے کہ ان کی جانب سے جوہری معاہدے پر عمل کے باوجود امریکہ پابندیاں نہیں ہٹائے گا کیونکہ کانگریس میں اس وقت بھی ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے ارکان کی بڑی تعداد موجود ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا اسلحہ فروخت کے معاملے کا جائزہ لیا جانا نئی امریکی انتظامیہ کا فطری استحقاق ہے۔ واشنگٹن نے اسلحہ فروخت کا جاری سلسلہ فی الحال دوبارہ آڈٹ کے مرحلے تک معطل کر رکھا ہے۔ ہر نئی امریکی انتظامیہ کے اقتدار میں آنے پر ایسا کیا جانا معمول کی کارروائی ہے۔