.

سعودی معلمہ نے عالمی فائن آرٹ کو کیسے دوبارہ زندہ کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی علاقے الاحسا سےتعلق رکھنے والی ایک معلمہ نے طویل اور منفرد دستاری ہنر پرتحقیق کے بعد اس فن کو ایک نئی جہت سے روشناس کیا ہے۔ سعودی معلمہ اپنے پیشے کے ساتھ ساتھ کچھ منفرد کرنا چاہتی تھی تاکہ وہ آرٹ کو عالمی سطح پر ایک نئی جدت میں ڈھال سکے۔ وہ ایک ایسا فن ایجاد کرنا چاہتی تھی جس میں تھری ڈی ٹیکنالوجی کے استعمال سے کاغذ کی پٹیوں پر فن پارے تیار کیے جاسکیں۔


العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے سعودی معلمہ 'زینب السلطان' نے کہا کہ یہ آرٹ اس وقت سے موجود تھا جب کاغذ ایجاد بھی نہیں ہوا تھا۔ یہ آرٹ دنیا کے کئی خطوں اور ملکوں کی خواتین میں مقبول تھا۔ اس نے بتایا کہ میں نے اس آرٹ کو الاحسا کی خواتین میں زندہ کیا۔ اسی فن میں حصہ لینے کی بدولت مجھے الاحسا اور دوسرے علاقوں میں ہونے والی نمائشوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ گذشتہ ایک سال کے دوران کرونا نے گھروں میں قیام کے دوران فراغت کا اچھا خاصا موقع فراہم کیا اور میں‌نے اس موقعے سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

میں اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اس فن کو مزید بہتر بنانے پر صرف کرتی۔ اس کام میں میرے خاندان نے بھی میری بھرپور مدد کی۔ اہل خانہ کی مدد سے میں کرونا کے ایام میں کاغذ پر تھری ڈی پرینٹنگ کی 300 پینٹنگ کی تیار کرلیں۔
زینب سلطان نے بتایا کہ اس کے فن کی شہرت سعودی عرب کی سرحدوں سے باہر پہنچی اور خطے کے دوسرے ممالک میں بھی آرٹ کے مداحوں نے اس فن کو پسند کیا۔ مجھے ایک پینٹنگ بنانے میں بعض اوقات کئی ہفتے لگ جاتے مگران پرمحنت کا رنگ صاف دکھائی دیتا۔