.

عراق : بغداد میں الطیران اسکوائر پر ہونے والے دھماکے میں ملوث افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی پارلیمنٹ میں دفاعی کمیٹی کے ایک رکن نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ بغداد کے الطیران اسکوائر پر ہونے والے خونی دھماکے میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ چند روز قبل عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے ہدایات جاری کی تھیں کہ گذشتہ جمعرات کے روز ہونے والے دھماکے کے اسباب جاننے کے لیے فوری تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔

دوسری جانب عراقی پارلیمنٹ کے فرسٹ ڈپٹی اسپیکر حسن کریم الکعبی نے زور دیا ہے کہ الطیران اسکوائر پر مجرمانہ کارروائی کی تحقیقات اور غفلت برتنے والوں کے احتساب کو جلد ممکن بنایا جائے۔

انہوں نے باور کرایا کہ دارالحکومت بغداد کا امن عراق کے بقیہ صوبوں کے امن اور علاقائی اور بیرونی امن کے ساتھ مربوط ہے۔ الکعبی نے مطالبہ کیا کہ داعش تنظیم کے خلاف انٹیلی جنس کوششوں کو بھرپور بنایا جائے اور پیشگی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا جائے۔

واضح رہے کہ بغداد دھماکے کے اگلے روز جمعے کو کابینہ کے خصوصی اجلاس کے دوران وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کا کہنا تھا کہ "گذشتہ روز جو کچھ ہوا ہم اسے دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم نے اپنے عوام سے امن و امان کے قیام کا وعدہ کیا ہے۔ حالیہ دھماکا اس بات کی دلیل ہے کہ ایک خلا ہے جس کی درستی میں تیزی دکھانا ہو گی"۔ الکاظمی نے باور کرایا تھا کہ سیکورٹی اور ملٹری انفرا اسٹرکچر میں سلسلہ وار تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی آئندہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر سیکورٹی پلان پر کام ہو رہا ہے۔

داعش تنظیم نے اپنی ذیلی ایجنسی "اعماق" کے ذریعے گذشتہ جمعرات کے روز ٹیلی گرام پر بغداد میں دُہرے خود کش حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

جمعرات کے روز بغداد کے وسط میں ہونے والے دُہرے دھماکے میں 32 افراد ہلاک اور 110 زخمی ہو گئے تھے۔ گذشتہ تین برسوں کے دوران یہ عراقی دارالحکومت میں کسی بھی دہشت گرد کارروائی کے دوران ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔