.

خطے میں ایران کی سرگرمیوں پر روک لگانے کے حوالے سے امریکی اسرائیلی موافقت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے اپنے امریکی ہم منصب لائیڈ اوسٹن پر زور دیا ہے کہ خطے میں ایرانی سرگرمیوں پر روک لگانے کی ضرورت ہے۔

گینٹنز نے فون پر رابطے کے دوران باور کرایا کہ ایران کے خلاف ایک مؤثر پالیسی مرتب کی جانی چاہیے۔

اس موقع پر امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ان کا ملک اسرائیل کی عسکری برتری برقرار رکھنے کا پابند ہے۔

ادھر امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر جنرل کینتھ میکنزی دو روزہ سرکاری دورے پر اسرائیل پہنچے ہیں۔ دورے میں ایرانی خطرے کا معاملہ خصوصی طور پر زیر بحث آئے گا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق میکنزی اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف افیف کوخافی کے ساتھ تزویراتی جائزہ لیں گے۔ دونوں شخصیات کے درمیان حالیہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی تعاون مضبوط بنانے کے راستوں پر بھی بات چیت ہو گی۔

اسرئیلی فوج کے چیف آف اسٹاف کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان برسوں سے قائم تزویراتی عسکری تعلقات کا شمار اسرائیل کی قومی سلامتی اور دشمنوں پر اس کی برتری مضبوط بنانے میں بنیادی جزو کے طور پر ہوتا ہے۔

امریکی وزارت دفاع نے رواں ماہ کے وسط میں اسرائیل کو یورپ میں امریکی عسکری کمان کے آپریشنز کے دائرہ کار سے نکال کر ،،، مشرق وسطی میں عرب ممالک کے ساتھ مرکزی کمان میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسرائیلی چیف آف اسٹاف افیف کوخافی نے منگل کے روز ایک کانفرنس میں خطاب کے دوران باور کرایا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تہران کے ساتھ بین الاقوامی معاہدے میں امریکا کی واپسی بد ترین عمل ہو گا اور اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔