.

روبرٹ میلے ایران کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے روبرٹ میلے کو ایران کے لیے خصوصی نمائندے کے طور پر مقرر کرنے کا اعلان متوقع ہے۔ باخبر ذرائع نے جمعرات کے روز بتایا کہ یہ اعلان آج یا کل میں کر دیا جائے گا۔ روبرٹ میلے سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ میں خارجہ پالیسی کے مشیر کے عہدے پر فائز تھے۔

یاد رہے کہ میلے نے فروری 2014ء سے جنوری 2017ء تک امریکا کی قومی سلامتی کونسل میں کام کیا۔ وہ 2015ء میں ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے سینئر ترین امریکی مذاکرات کاروں میں سے ایک تھے۔ میلے کو فسلطینی اسرائیلی تنازع کے حوالے سے بھی ماہر شمار کیا جاتا ہے۔ وہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے معاون بھی رہ چکے ہیں۔

وہ 2000ء میں کیمپ ڈیوڈ میں سہ فریقی سربراہ اجلاس کے انعقاد میں بھی شریک رہے۔ یہ اجلاس امریکی صدر بل کلنٹن، فلسطینی سربراہ یاسر عرفات اور اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم ایہود باراک کے درمیان منعقد ہوا تھا۔

روبرٹ میلے اس وقتInternational Crisis Group نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کی سربراہ ہیں۔ یہ گروپ سیاسی امور اور جنگوں سے اجتناب کے حوالے سے تحقیقی مطالعوں پر کام کرتا ہے۔

امریکا کے نئے وزیر خارجہ اینتھونی بلینکن یہ باور کرا چکے ہیں کہ ایرانی جوہری معاہدے میں امریکا کی واپسی اسی صورت ممکن ہو سکتی ہے جب تہران اپنے ان وعدوں کی پاسداری کرے جن سے وہ پیچھے ہٹ چکا ہے۔ اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بلینکن کا کہنا تھا کہ "کئی محاذوں پر ایران نے اپنی پاسداریوں کا احترام چھوڑ دیا۔ ان پاسداریوں کی طرف واپسی کا ارادہ کیا گیا تو اس میں تھوڑا وقت درکار ہو گا۔ علاوہ ازیں ہمیں بھی تہران کی جانب سے اپنی پاسداریوں کے احترام کا جائزہ لینے کے لیے وقت چاہیے ہو گا۔ ابھی ہم اس سے دور ہیں"۔

رواں سال کے آغاز کے بعد سے امریکا نے اپنے حریفوں بالخصوص ایران کے سامنے طاقت کا مظاہرہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی B-52 بم بار طیارے نے خلیج کے علاقے میں پرواز کی۔ یہ طیارہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی مرکزی کمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ "اس مشن کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ امریکی فوج کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے دنیا بھر میں فضائی قوت بھیجنے کی قدرت رکھتی ہے"۔

رواں سال کے آغاز کے بعد سے اب تک B-52 طیارہ تین بار خطے میں پرواز کر چکا ہے۔