.

سعودی عرب کی بیڈمینٹن سٹار رھف المبدل سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں حکومت کی اصلاحات کے بعد خواتین کو دیگر شعبوں کے ساتھ کھیلوں میں بھرپور حصہ لینے اور پنی کارکردگی دکھانے کے مواقع مل رہے ہیں۔ مملکت میں فٹ بال کے بعد اب ٹینس، باسکٹ بال اور بیڈمینٹن جیسے کھیل کے میدانوں میں‌ بھی خواتین اپنی قسمت آزمائی کر رہی ہیں۔

سعودی عرب کی ایک بیڈمنٹن اسٹار رھف المبدل نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے ملاقات کی اور کھیل کے شوق کے بارے میں کئی اہم سوالوں کے جواب دیے۔

رھف نے بتایا کہ اس ن شاہ سعود یونیورسٹی سے حال ہی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کے مضمون میں گریجوایشن کی ہے مگر تعلیمی شعبے کے برعکس اسے بیڈمینٹن کھیلنے کا حد شوق ہے۔ اس نے کھیل کے میدان میں مملکت کا نام روشن کرنے کا فیصلہ کیا اور اس میدان میں بہتر کارکردکھانے کا تہیا کیا۔

ایک سوال کے جواب میں رھف المبدل نے بتایا کہ میں انٹرمیڈیٹ کے دوسرے سال میں تھی جب میں نے بیڈمینٹن کھیلنا شروع کیا۔ اس کھیل نے میرے اندر جوش وجذبے اور طاقت میں اضافہ کیا۔ اس طرح میں نے نہ صرف اسے جاری رکھا بلکہ اس میں مہارت حاصل کرنے کے لیے محنت شروع کر دی۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی بیڈمنٹن اسٹار رھف نے کہا کہ اس کے خیال میں بیڈمینٹن دنیا کے بہترین کھیلوں میں سے ایک ہے۔ یہ کھیل انسانی فٹنس اور صحت کے لیے بھی بہت مفید ہے۔ اس نے بتایا کہ میں‌ نے بیڈمینٹن کوچ ھتون السدحان کی نگرانی میں سعودی بیڈمنٹن کلب میں اس کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ یہاں پر بہت سے لڑکیاں مختلف کھیلوں میں اپنی دلچسپی دکھا رہی تھیں۔ یوگا۔ باسکٹ بال، ٹینس اور بیڈمنٹ جیسے کھیل شامل تھے۔

رھف نے بتایا کہ اس نے سعودی عرب کی جامعات کی فیڈرل بیڈمنٹن ٹیم میں سال2020ء میں شمولیت اختیار کی اور میں نے طائف میں پہلے کھیل کے مقابلے میں حصہ لیا۔ اس کے علاوہ اب وہ 2021ء کے بیڈمنٹن چیمپئن شپ میں شامل ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔