.

سعودی عرب: آثار قدیمہ کے سائنسی مطالعے کے پروگرام کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبد اللہ بن فرحان نے ہیریٹیج اتھارٹی کے سروے اور ریسرچ پروگرام کے منصوبے کے تحت متعلقہ قومی اور بین الاقوامی اداروں اور مراکز کے ساتھ مل کر مملکت میں پتھر کے دور کی تنصیبات کی دستاویز اور مطالعہ کے لیے ایک سائنسی منصوبہ شروع کیا ہے۔

ہیریٹیج اتھارٹی کو امید ہے کہ یہ منصوبہ آنے والے سالوں میں آثار قدیمہ کے سب سے اہم ماڈل ریسرچ پروجیکٹس میں سے ایک ہوگا۔ یہ ایک طویل المیعاد حکمت عملی ہے جس کا مقصد مقامی سطح پر ایسے ماہرین تیار کرنا ہے جو آگے چل کر مملکت میں آثار قدیمہ اور گذری تہذیبو‌ں کی باقیات کے سائنسی مطالعے کے میدان میں کام کر سکیں۔

سعودی عرب میں پتھروں کی باقیات کی تحقیقی کاوشوں کو یکجا کرنے ، انہیں دستاویزی شکل دینے اور آثار قدیمہ کے ڈیٹا بیس میں ان کا ریکارڈ مرتب کرنے اور ان کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کی خاطر سائنسی طریقہ کار اختیار کرنا ہے۔ سعودی عرب میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ مقامی جامعات اور بین الاقوامی اداروں کی مدد سے آگے بڑھایا جائے گا۔

توقع ہے کہ اس پروگرام کے تحت مملکت میں موجود 5 ہزار سے زاید مقامات اور آثار قدیمہ کا سائنسی تجزیہ کیا جائے گا۔ ان میں ماضی میں سعودی عرب میں کھدائیوں کے دوران ملنے والے بیش قیمت آثار قدیمہ بھی شامل ہیں۔